!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط8

ڈاکٹر صداقت علی

جمعرات کو جب میں دوپہر کا کھانا کھانے کے بعداپنے دفتر میں بیٹھا تھا تو مجھے شِدت سے اپنے کایا پلٹنے کا احساس ہوا ساتھ ہی ساتھ میرے دل میں یہ خیال بھی موجود تھا کہ ابھی مجھے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ تاہم اس روز میں وقت سے کچھ پہلے ہی اپنے دفتر سے اُٹھ آیا تاکہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک شاندار چُھٹی گزار سکوں۔ بلکہ سچ پوچھیں تو ہمارے محلے کے امام مسجد نے مجھے جمعہ کے روز مسجد میں دیکھ کر حیرت کا اظہار بھی کیا کیونکہ یہ وقوعہ چھوٹی عید کے بعد پہلی دفعہ ہوا تھا اور چھوٹی عید پر انہوں نے احتیاطاً مجھے بڑی عید کی بھی پیشگی مبارک دے دی تھی۔

میرا خیال ہے کہ اس وقت آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ چھٹی گزارنے کے بعد جب میں دفتر پہنچا تو ان پنگوں کا کیا بنا؟ کچھ بھی نہیں اول تو مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ میں اِن پنگوں کا کیا کروں؟ پنگے لیتے ہوئے بہت مزہ آتا ہے لیکن جب دنگے شروع ہوتے ہیں تو بہت بدمزگی ہوتی ہے اور دوسرے میں نے ہفتے کے پہلے تین دن ساری چیزوں کو ترتیب دینے میں لگا دیئے تاکہ میں میاں عبدالعزیزکے تجویز کردہ سیمینار میں شریک ہو سکوں۔

جیسے تیسے میں اس سیمینار میں شریک ہو ہی گیا جیسا کہ میاں عبدالعزیز نے کہا تھا اس سیمینار میں شمولیت آنکھیں کھول دینے والا تجربہ تھا۔ اس کی جو بات مجھے سب سے زیادہ پسند آئی وہ یہ تھی کہ آپ جو کچھ سیکھتے ہیں اس پر فوری عمل بھی کر سکتے ہیں سیمینار ختم ہونے کے بعد میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کِس طرح فوراً دفتر پہنچوں اور پنگوں کو اپنے حتمی انجام تک پہنچا دوں۔ یہ پنگے بندروں کے ایک غول کی طرح میرے ارد گرد پٹو سیاں مار رہے تھے اور میں بے بسی سے انہیں دیکھا کرتا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب تمام بندروں سے وہ سلوک ہوا جو بادشاہ بادشاہوں سے کیا کرتے ہیں۔ آپ یقین کریں یہ ایک ایسا دن تھا جسے میں اور میرا تمام عملہ کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔

اس روز جب میں گھر سے کام پر گیا تو میرا ذہن ان حربوں اور تکنیکوں کے خیال سے ہی سہانے خواب دیکھنے لگا جو میں اپنے سٹاف پر آزمانے والا تھا میں اپنے ماتحتوں کے کام دھندے انہیں لوٹانے کیلئے بے چین تھا۔ اس دن ٹریفک جام ہونے کے سبب میں اپنے دفتر قریباً دس منٹ دیر سے پہنچا۔ یہ وقت میرے عملے کے افراد کے لئے کافی تھا کہ وہ ان پنگوں پر ہونے والی پیش رفت جاننے کے لئے میرے دفتر کے باہر اکٹھے ہو جائیں جو میں ان کے ساتھ لے رکھے تھے۔

جب میں ان کے قریب سے گزرتا ہوا اپنے کمرے میں گیا تو بیک وقت انہوں نے اور خود میں نے ہوا میں ایک تبدیلی کی بُو محسوس کی۔ میں نے یہ تبدیلی اس لئے محسوس کی کیونکہ میں جانتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے اور انہوں نے اس لئے کہ میرے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی جسے وہ کوئی معنی نہ پہنا سکے۔ میرے اندر رونما ہونے والی اس تبدیلی نے انہیں چہ میگوئیاں کرنے پر مجبور کر دیا کیونکہ اچانک بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں سے لوگ گھبرا جاتے ہیں۔

میں اس لئے مسکرا رہا تھا کہ میں انہیں بالکل ایک نئے پس منظر میں دیکھ رہا تھا۔ میں نے انہیں ایک طویل عرصے تک اپنے مسائل کی جڑ سمجھ رکھا تھا‘ اس روز اچانک ہی وہ لوگ مجھے اپنے مسائل کا حل نظر آئے۔ ان میں سے ہر کوئی مجھے بے شمار خوبیوں کا مالک نظر آنے لگا۔ حتیٰ عبدالرشید بھلا صاحب سارا دن بیٹھے اُونگھا کرتے تھے مجھے بہت “کرنی” والے بزرگ نظر آئے۔

جب میں اپنے دفتر میں داخل ہوا تو میری سیکرٹری وینا نے محسوس کیا کہ میں ایک ایسا کام کرنا بھول گیا ہوں جو میں نے گذشتہ برسوں میں کبھی فراموش نہیں کیا تھا۔ میں اپنا دروازہ بند کرنا بھول گیا تھا۔ وہ ہکا بکا رہ گئی۔ ازراہ کرم نوٹ کریں کہ میں نے اپنے سارے عملے کو ایک لفظ بولے بناء حیران کر دیا تھا۔ جب میں نے چِلا کر وینا سے پوچھا کہ سب سے پہلے مجھے کون ملنا چاہتا ہے تو اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ اس نے پوچھا، ’’آپ کا مطلب ہے کہ آپ واقعی ان لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’انہیں ملنے کی اتنی شدید خواہش اس سے پہلے کبھی میرے من میں پیدا نہیں ہوئی بتاؤ سب سے پہلے کون ملنا چاہتا ہے؟‘‘ اسی لمحے میں نے اپنے سیمینار کے گرو کی ہدایات پر عمل کرتے ہوتے پہلا قدم اُٹھایا۔ ۔یعنی دوسروں کے دیئے ہوئے کام دھندوں سے نجات پائی۔ اس صبح میں اپنے عملے کے ایک ایک شخص سے ملا اور ان سب کے ساتھ میں نے ایک ہی وطیرہ اختیار کیا۔سب سے پہلے تو میں ان سے معذرت کرتا کہ میں نے ان کے کاموں کو اپنے پاس روکے رکھا اور دوسرے میں انہیں یہ یقین دلاتا کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔

پھر میں نے یکے بعد دیگرے مضبوطی سے اپنے ما تحتوں کے بندر ان ہی کے کندھوں پر رکھ دیئے اور خود انتہائی خوشی کے عالم میں کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر ان کو واپس جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ حالت یہ تھی کہ ان کی پُشت پر کندھوں کے درمیان اُن کی ذمہ داریاں لدھی نظر آرہی تھیں۔ بعد میں اپنے لوگوں سے ہر روز وہی سوال پوچھتا رہا جو وہ عرصہ دراز سے مجھ سے پوچھ رہے تھے۔ سنائو! اس کام کا کیا بنا؟ (یہ مینجروں کے پوچھنے کا انتہائی اہم سوال ہے۔ اگر کوئی منیجر سے یہی سوال کر رہا ہے تو یہ پنگا ہوگا۔

جب میرے عملے کا آخری فرد بھی میرے دفتر سے نکل گیا تو میں سکون سے سارے دن کے واقعات پر غور کرتا رہا ان میں سب سے نمایاں واقعہ یہ تھا کہ میرا دروازہ ایک تبدیلی کو خوش آمدید کہنے کے لئے کُھلا تھا اور نہ ہی کوئی بندر۔ اب مجھے فارغ وقت میسر تھا اور لوگ جب چاہیں مجھے مل سکتے تھے۔ ایک طویل عرصے کے بعد میرے پاس اپنے لوگوں کے لئے وقت تھا لیکن ان کے پاس میرے لئے وقت نہیں تھا وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مصروف تھے۔ میں نے کتنی اہم چیز سیکھی تھی جتنا آپ اپنے ماتحتوں کی ذمہ داریاں اُٹھانے سے باز رہیں گے اتنا ہی آپ اپنے ماتحتوں کی راہنمائی کے لئے میسر ہوںگے۔

جب میں نے اپنے عملے کے تمام فرائض منصبی اور ذمہ داریاں اِنہیں لوٹا دِیں تو گویا میں پنگے بازی سے کوسوں دور ہوگیا۔ اس سب ہلے گلے کے قریباً دو دن بعد یہ نکتہ اتفاقاً میری سمجھ میں آیا۔ میں اپنے دفتر میں تھا دروازہ کُھلا ہوا تھا اور میں میز پر پائوں رکھ کر کچھ سوچ رہا تھا۔ سوچ یہ رہا تھا کہ کس طرح میں ایسے حالات پیدا کروں کہ میرے عملے کے افراد کو کام کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے (حقیقی معنوں میں میں کام تو ان ہی لوگوں کے لئے کر رہا تھا لیکن ان کا کام نہیں کر رہا تھا)۔ اس دوران میرے عملے کے تمام افراداپنے کام دھندے میں لگے ہوئے تھے اور گزشتہ دو ایک دِنوں میں میں نے ان کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی۔ اِیمانداری کی بات تو یہ ہے کہ میں نے خود کو تَنہا محسوس کرنا شروع کر دیا تھا اور مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے کسی کو میری ضرورت ہی نہ ہو۔

پھر قسمت نے یاوری کی اور ایاز ایک مسئلے کے سلسلے میں مجھے ملنے کیلئے چلا آیا جب وہ میرے دفتر پہنچا تو اس نے نوٹ کیا کہ میرے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا ہے تاہم جہاں وہ کھڑا تھا وہاں سے وہ مجھے نہیں دیکھ سکتا تھا اس نے کبھی بھی میرے دروازے کو کُھلا نہیں پایا تھا سو وہ یہ سمجھ بیٹھا کہ میں کہیں باہر گیا ہوں گا۔ پس جب اس نے وینا سے پوچھا کہ میں کدھر ہوں تو اس نے جواب دیا ’’وہ اندر ہی بیٹھے ہیں۔‘‘ ایاز کو گویا ایک جھٹکا لگا اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا ’’مم….. میں انہیں کب مل سکتا ہوں؟‘‘ وینا نے جواب دیا ’’سیدھے اندر چلے جائو وہ کچھ بھی تو نہیں کررہے فارغ ہی بیٹھے ہیں۔

جب وہ اندر آیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں کس قدر اکیلا تھا سو میں نے اس کا گرم جوشی سے استقبال کیا ’’آئو ’’آئو بیٹھو نا‘ تم سے مل کر مجھے بہت خوشی ہوئی‘ کیا خیال ہے ایک کپ کافی نہ ہو جائے؟ چلو ہم شروع سے بات کا آغاز کرتے ہیں تمہارے بیوی بچے کیسے ہیں؟ ایاز کے جواب سے مجھے اندازہ ہوا کہ موجودہ حالات میں غالباً اس قسم کی بے کار گفتگو کے لئے اس کے پاس وقت نہیں تھا اس نے سر کو جھٹکتے ہوئے جواب دیا ’’میرے پاس ان امور کے لئے وقت کہاں!‘‘ آج پہلی مرتبہ میرے پاس اس کے لئے وقت تھا جبکہ اس کے پاس میرے لئے وقت نہ تھا۔

اب ہر شخص کی طرح میرا عملہ بھی جانتا تھا کہ اگر باس کے پاس ان کے لئے وقت نہ ہو تو ایسے باس کے ساتھ کام کرنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے‘ پس اب میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے پاس ان کے لئے زیادہ وقت ہوجبکہ ان کے پاس میرے لئے وقت نہ ہو اور اس میں کامیابی اسی صورت ممکن ہے کہ میں ان کے لئے اپنا دستیاب وقت بڑھا دوں اور ان کے پاس جو وقت میرے لئے بچا ہو اسے کم کر دوں۔ اس سارے سلسلے کو چیک کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دوران گفتگو میں اس بات پر نظر رکھوں کہ وقت کے حوالے سے پہلے کون فکر مند ہوتا ہے‘ اگر وہ اس حوالے سے مجھ سے پہلے مضطرب ہو جاتے ہیں‘ تو یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ان کا اپنی ذات پر انحصار بڑھ رہا ہے۔

نتیجہ ظاہر ہے اپنے عملے میں میری شہرت ایک ایسے منتظم کی حیثیت سے پھیل گئی ہے جس کے پاس فرصت ہی فرصت ہے‘ اب وہ جب چاہیں مجھے مل سکتے ہیں لیکن ان سے ملاقاتیں زیادہ طویل نہیں ہوتیں۔ میری ذات میں انقلابی تبدیلی کے بعد ماتحتوں میں پیدا ہونے والی یہ سب سے بڑی تبدیلی ہے۔

مزید برآں ایک دفعہ جب پیر کے روز میں نے اپنے عملے کو یہ سب پنگے لوٹا دیئے تو ان میں جیسے بجلیاں بھر گئیں۔ اب انہیں میرے ہاتھ پائوں ہلانے کا انتطار کرتے ہوئے کڑھنا نہیں پڑتا تھا‘ اب مجھ میں بھی احساس ندامت نہ تھا‘ مجھے اب ان کا کوئی ’’ادھار‘‘ نہیں دینا تھا۔چونکہ میں پہلے کی طرح پنگے لئے نہیں بیٹھا تھا، اب میں ان کے کاموں میں رکاوٹ نہیں بن رہا تھا۔ چند ہی گھنٹوں کے اندر میں نے بظاہر کام پر اپنے گرفت کو ڈھیلا کر دیا‘ اس طرح اب میرے عملے کو اس لئے میری طرف نہیں دیکھنا پڑتا تھا کہ میں کوئی قدم اُٹھائوں تو اُس کے بعد ہی وہ ہاتھ پائوں ہلائیں۔ اُن کی پلیٹ پر کافی کچھ تھا اور وہ اُس پر اختیار بھی رکھتے تھے۔

پھر ایک دن اچانک میاں عبدالعزیز کی کال آگئی۔ میری تازہ صورت حال جان کر وہ مطمئن ہوئے لیکن پھر انہوں نے ایک ایسی بات کردی کہ میرا “تر اہ” نکل گیا ۔ وہ کہنے لگے، آپ پھر سے ایک پھندے میں پھنستے ہو ئے نظر آرہے ہیں۔