!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط7

ڈاکٹر صداقت علی

“آج والدین کے طور پر ہم نے بچوں سے تمام ذمہ داریاں چھین لی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے تمام پنگے ہماری پیٹھ پر سوار ہو گئے ہیں۔ اس طرح بچے احساس ذمہ داری نہیں سیکھ پاتے۔ ہم پوری نیک نیتی سے اپنے بچوں کو وہ تمام سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں کرتے ہیں جن سے ہم محروم رہے تھے اور بسا اوقات ہم انہیں ایسی نعمتوں سے محروم کر دیتے ہیں جن سے ہم نے بھرپور فیض اُٹھایا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی تفریح اور کھیل کود کے انتظامات خود کرتے تھے اور اس کا ایک اپنا ہی مزا تھا۔

میدان اور سامان کا بندوبست ہوجانے کے بعد تیسرا مرحلہ یہ ہوتا کہ بچے کہاں سے لائیں؟ بچوں کی تعداد کافی نہ ہوتی اس لئے کوئی بھی بچہ خواہ وہ کسی بھی عمر کا ہوتا اسے کھلا لیا جاتا۔ ایسے بچے کو ریلو کٹا کہا جاتا۔ نتیجتاً دونوں ٹیموں میں آٹھ سال کی عمر سے لے کر اٹھارا سال تک کے ’’بچے‘‘ موجود ہوتے۔ بچپن میں میرے بہت سے ہیرو تھے‘ مجھے یاد ہے کہ اگر حنیف محمد مجھے ہیلو بھی کہہ دیتا تو میں خوشی سے پاگل ہوجاتا! میں کبھی گھر واپس جاکر یہ شکایت نہ کرتا کہ مجھے سارا دن فیلڈنگ کرنے کے باوجود باری نہیں ملی‘ میں یہ سوچا کرتا تھا کہ مجھے صبر کے ساتھ بڑا ہونے کا انتظار کرنا چاہیے اور جب میں بڑا ہوجائوں گا تو پھر جی بھر کے باریاں لیا کروں گا اور جتنا جی چاہے فیلڈنگ کیا کروں گا۔

جب میدان‘ سامان اور کھلاڑیوں کا بندوبست ہوجاتا تو ہم کھیل کا آغاز کرتے اور ظاہر ہے چند دن تواتر سے کھیلنے کے بعد ہمارے کھیل کا معیار بلند ہوجاتا‘ پھر ہم لوگ آپس میں کہتے کہ فلاں ٹیم کا کھیل بہت اچھا ہے اسے چیلنج کرنا چاہیے۔ سو ہم انہیں چیلنج کرتے‘ یہ مقابلے اتوار کے روز ہوا کرتے اور اکثر ہم جیت جایا کرتے تھے۔

جب ہماری ٹیم عروج پر تھی اس وقت ہمارے ہیرو فضل محمود‘ حنیف محمد اور حفیظ کاردار ہوا کرتے تھے۔ ہمارے کھیل کی ساری منصوبہ بندی کون کرتا تھا؟ ہم کرتے تھے۔ ٹیم کو منظم کون کرتا تھا؟ ہم کرتے تھے۔ شوق کون اُبھارتا تھا؟ کنٹرول کون کرتا تھا؟ ہم کرتے تھے اور کون؟

میاں عبدالعزیز نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’اور یہ سارے کام آج کون کرتا ہے؟ والدین بچوں کو صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ بس تیار ہوجائیں‘ پھر شاہین آفریدی اور حسن علی نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بات صرف کرکٹ تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ چیز نوجوانوں کے ہر کھیل میں سرایت کرچکی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ گزشتہ دنوں میں ایک کینیڈین کمپنی کے بڑے مینجر کے ساتھ کام کر رہا تھا‘ دوپہر کو وہ کہنے لگا ’’اگر آپ بُرا محسوس نہ کریں تو میرے ساتھ کار میں میرے بیٹے کو گھر سے لینے کے لئے چلیں‘ اُسے ایک ہاکی میچ کی پریکٹس کے لئے قذافی سٹیڈیم اُتارنا ہے۔ ہم اس کے گھر گئے‘ جب اس نے ہارن دیا تو ایک دبلا پتلا سا لڑکا ہاکی کے سازوسامان کا ایک بڑا بیگ اُٹھائے ہوئے باہر نکلا۔

بیگ کے وزن سے لڑکا دُہرا ہوا جا رہا تھا‘ میں نے پوچھا کے بچے کی عمر کتنی ہے؟ جواب ملا ’’سات سال‘‘ کار تک پہنچنے سے پہلے بچہ لڑکھڑایا اور گرِ پڑا‘ اگر ہم نے کار سے نکل کر اس کی مدد نہ کی ہوتی تو وہ اس بلڈوزر بیگ تلے دب کر مر گیا ہوتا‘ اس تمام سازوسامان کے ساتھ ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی کہ وہ خودبخود اٹھ کھڑا ہوگا۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں بچہ تھا تو ہم لوگ اپنے سکول کے سامنے والی گرائونڈ میں ہاکی کھیلا کرتے تھے میاں عبدالعزیز کہنے لگے ’’ہم سارا دن گرائونڈ صاف کرتے اور جب ہم صفائی کر لیتے اور عین کھیلنے کے لئے تیار ہوتے تو ہماری مائیں آجاتیں اور کہتیں کہ گھر چلو اور کھانا کھائو۔ ہم کہتے ہم نے نہین جانا، تو وہ کہتیں کہ ’’آج آلے تمہارا پیو پھر دیکھنا تمہارا کیا ہوتا ہے! تو ہم ڈر کر گھر کی طرف چل پڑتے۔ ہڈیاں چخٹتی ہوئی محسوس ہوتیں! ایک ایک قدم من من کا لگتا۔

جب کبھی دوبارہ کھیلنے آتے میدان پھر سے کوڑے کرکٹ سے بھر چکا ہوتا اور ہمیں ایک مرتبہ پھر سے صفائی کرنا پڑتی آخر کار جب کبھی ہماری قسمت یاوری کرتی تو ہمیں کھیلنا نصیب ہوتا اور وہ اس طرح کہ گول کی جگہ پر ہم دو پتھر رکھ دیتے جو گول پوسٹ کو ظاہر کرتے۔ اگر اس زمانے میں آپ گول کیپر کی جگہ کھیل رہے ہوتے اور دستانے یا پیڈ پہننے کی کوشش کرتے تو ساری ٹیم آپ کو زنخا کہہ کر چھیڑتی۔

آج کے بچے جب تیار ہوجاتے ہیں تو انہیں کھیل کے میدان تک پہنچایا جاتا ہے اور جب وہ عالیشان میدانوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں تو باہر والدین ان کے لئے مشروبات‘ برگر اور مز ے مزے کی چیزیں بنوا رہے ہوتے ہیں‘ ظاہر ہے وہ چاہتے ہیں کہ بچہ کہیں بھوکا نہ رہ جائے۔

کئی والدین ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب ان کا بچہ کھیل رہا ہو تو وہ باہر بیٹھ کے سکورنگ کر رہے ہوتے ہیں اور اگر دو رنز لینے کے بعد بچہ رن آئوٹ ہو جائے تو بے چارے والدین کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ آئوٹ کیسے ہو گیا اور سکور کیا لکھیں؟ ان کی پریشانی دیدنی ہوتی ہے‘ گویا کہ وہ ورلڈکپ کی سکورنگ کر رہے ہوں۔

کھیل کے میدان کے باہر عموماً ایک بچہ لمحہ بہ لمحہ بدلتا ہوا سکور‘ بورڈ پر لکھ رہا ہوتا ہے‘ وہ بری طرح پسینے سے شرابور ہوتا ہے‘ ہمارے زمانے میں یہ سارا جھنجھٹ نہیں ہوتا تھا‘ ہم لوگ کرسی پر بیٹھ کر ایک چھڑی کی مدد سے زمین پر ہی سکور لکھ لیا کرتے تھے‘ اکثر مخالف ٹیم کا کھلاڑی سکور کے پاس آکر کہتا ’’تم غلط سکورنگ کر رہے ہو‘‘ یہ کہنے کے بعد وہ پائوں سے سکور مٹا ددیتا‘ ایسے میں کبھی کبھار دھینگا مشتی بھی ہو جاتی۔ اسے پرے ہٹانے کے بعد وہی پرانا سکور لکھ دیا جاتا۔

اور آخری فرق‘‘ میاں عبدالعزیز اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے ’’آج جب آپ کی مخالف ٹیم ہار جائے تو آپ اس کا مذاق بھی نہیں اڑا سکتے بلکہ آپ چائے خانہ یا آئس کریم پارلر یا “چائے خانہ” پر جا کر اکٹھے آئس کریم بھی کھانا پڑتی ہے۔ کیا کبھی تم اتوار کے دن چمن آئس کریم بیڈن روڈ کا رخ کیا ہے؟ وہاں پر یہ مستقبل کے چیمپئن چلا چلا کر آئس کریم طلب کر رہے ہوتے ہیں۔

آج کے اکثر بچے یہ نہیں جانتے کہ اگر ان کے لئے کوئی اور منصوبہ بندی نہ کرے تو وہ کیا کریں گے؟ جب میں بچہ تھا اور کبھی اپنی والدہ سے یہ کہہ بیٹھتا کہ مجھے بوریت ہو رہی ہے تو وہ میری پیٹھ پر لات رسید کر کے کہتیں ’’کہو بوریت دور ہوئی؟‘‘ یا پھر کہتیں زبردست چلو چل کر میرے ساتھ برتن دھلوائو‘‘ اور اس طرح ہماری بوریت فٹافٹ دور ہو جاتی۔۔

میاں عبدالعزیز سے گفتگو اور اس کے تجویز کردہ سیمینار میں شرکت کے بعد مجھے یہ علم ہوا کہ میں جس قدر دوسرے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری اُٹھاؤں گا‘ مجھ پر ان کا انحصار اتنا ہی بڑھ جائے گا‘ اس دوران ان کی عزت نفس اور اعتماد بری طرح مجروح ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور روزمرہ کا کام کاج نپٹانے میں ناکام رہوں گا۔

پنگے بازی کی اس علت نے میری زندگی میں بہت تباہی مچائی تھی۔ میرے دائیں بائیں میرے اسٹاف کے بیشتر بندر عدم توجہ سے قابل رحم حد تک نحیف و لاغر ہو چکے تھے اور پیچیدہ گورکھ دھندا بن چکے تھے۔

یہ سارے پنگے جو بندروں کے ایک ریوڑ کی شکل میں میرے دفتر میں برا جمان تھے میری زندگی کو اجیران بنا رہے تھے۔ میں نے تصور ہی تصور میں اپنے کندھے پر موجود ایک ماتحت کی بندریا پر نظر ڈالی اور کہا ’’بچُو! فکر نہ کرو تم جلد پیا گھر جانے والے ہو، میں تمہارے ہاتھ پیلے کرنے ہی والا ہوں‘‘ اور پھر سب سے بڑے بندر پر نظر دوڑاتے ہوئے میں اس سے گویا ہوا ’’اور تم بھی فکر نہ کرو بن مانس میں جلد ہی تم سے بھی دو دو ہاتھ کرتا ہوں۔

مثبت سوچ میرے دل میں گھر کر گئی۔ میری نظر کمرے میں پڑی ہوئی مختلف اشیاء سے ہوتی ہوئی دیوار پر لگے ہوئے ایک پوسٹر پر جاکر رک گئی۔ یہ پوسٹر میری مرحوم بیوی رخسانہ نے چند سال پہلے مجھے دیا تھا‘ اس پر نیوٹن کی تصویر کچھ اس طرح سے بنی ہوئی تھی کہ جیسے اس کے سر پر سیب ابھی ابھی ٹپکا ہو۔ اس کے نیچے لکھا تھا۔

تجربہ اس کا نام نہیں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا؟ تجربہ یہ ہے کہ پھر آپ نے کیا کیا؟