!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط6

ڈاکٹر صداقت علی

میاں عبدالعزیز نے اپنی گفتگو جاری رکھی‘ بظاہر وہ بھی الطاف گوہر کی کہانی سے لطف اندوز ہورہے تھے تاہم آگے کی کہانی انہوں نے الطاف گوہر کی زبانی سنائی’’مجھے افسوس ہوا کہ میں کچھ اور چیزوں میں بھی بہت پیچھے رہ گیا ہوں‘ پس میں اپنے دفتر سے بھاگتا ہوا اتنی تیزی سے نکلا جتنی تیزی سے میری ٹانگیں میرا ساتھ دے سکتی تھیں‘ چھٹی والے دن کے چوکیدار نے مجھے اس برق رفتاری سے جاتے دیکھ کر پوچھا کہ میں اتنی تیزی سے کہاں جا رہا ہوں؟

میں نے چلاتے ہوئے کہا یہ نہ پوچھو کہ میں اتنی تیزی سے کہاں جا رہا ہوں بلکہ یہ پوچھو کہ اتنی تیزی میں میں کہاں سے جا رہا ہوں؟

میاں عبدالعزیز نے کہا الطاف گوہر نے مزے لے لے کہ مجھے بتایا کہ کس طرح وہ پانچ پانچ سیڑھیاں پھلانگتا ہوا پارکنگ لاٹ میں پہنچا‘ اپنی کار میں چھلانگ لگائی اور کار کو گھر کی طرف بھگا دیا۔ آدھ گھنٹے کے اندر اندر وہ دو دن کام کرنے کی کوفت سے نکل کر دو دن اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارنے کی سنسنی خیز کیفیت دوچار تھا۔ اس نے یہ دو چھٹیاں دل کھول کے اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزاریں‘ ہفتے کی رات کو وہ اتنی گہری نیند سویا کہ دو دفعہ اس کی بیوی کو شک گزرا کہ کہیں وہ مر ہی نہ گیا ہو۔

ہاں میاں عبدالعزیز بات جاری رکھتے ہوئے بولے الطاف گوہر نے میرے حالات کی مکمل تصویر کشی کی تھی۔ مجھے تو گویا پنگے لینے سے عشق تھا‘ لیکن خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے یہ مسئلہ حل کرنے کا سلیقہ سکھا دیا اور وہ دن جائے اور یہ دن آئے یہ مسائل دوبارہ میری زندگی میں پیدا نہیں ہوئے اور مجھے یقین ہے کہ تمہاری زندگی میں بھی ایسا ہی ہوگا۔

میں نے کہا میں شرط لگا سکتا ہوں کہ آپ نے جس سیمینار میں شرکت کی اس کا موضوع کیا تھا؟ میاں صاحب نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا، پنگا نہیں لینے کا سر جی۔

جب ہم ایک دوسرے سے الگ ہوئے تو میں حیرت میں ڈوبا ہوا گھر لوٹا‘ جب میں اندر داخل ہوا تو مجھے جا بجا وہ پنگے نظر آئے جو میں بے دھڑک لیتا رہا تھا‘ جہاں مجھے پہلے ہدایات سے بھرے کاغذات کے پلندے نظر آیا کرتے تھے وہاں اب مجھے بندر نما پنگے نظر آ رہے تھے۔ایک لمحے کو مجھے خیال آیا‘ کیوں نہ میں دوسرے پنگے باز لوگوں کو ردی کاغذات مہیا کرنے کا کاروبار شروع کر دوں؟

مجھے سارے پنگے بے چین بندروں کی طرح نظر آنے لگے ٹیلیفون کے ذریعے آئے ہوئے پیغامات بھی میری نظر میں بندر ہی تھے‘ میں نے چشم تصور سے ایک بندر کو ٹیلی فون کی تار میں سے ایسے گزرتے ہوئے دیکھا جیسے کوئی سور تنگ راستے میں سے گزرتا ہے۔ مجھے ایسے محسوس ہوا گویا میرا بریف کیس بندروں کی آماجگاہ ہے‘ میری میز پر پڑا نوٹ پیڈ مجھے وہ کنڈی دکھائی دیا جس کی مدد سے میں دوسروں کے بندر ان کی پشت سے کھینچ لیا کرتا تھا۔

اس اثناء میں جب میں اپنے کمرے میں ادھر اُدھر نظر دوڑا رہا تھا تو میری نظر اپنی بیوی اور بچوں کی تصویر پر آکر ٹھہر گئی اور مجھے احساس ہوا کہ میں تو آج تک اس تصویر میں موجود ہی نہ تھا‘ میں نے اس صورت حال کو درست کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اہل خانہ کی اس تصویر نے مجھے یہ بھی احساس دلایا کہ میں اور میری بیوی اکثر اپنے بچوں کے پنگے بھی پکڑتے رہتے ہیں‘ ابھی حال ہی میں ہمارا بیٹا گھر آیا اور ہمیں کہنے لگا امی ابو! میں جونیئر کرکٹ ٹیم میں شامل ہو گیا ہوں۔

میں نے کہا بہت اعلٰی! مجھے تم پر فخر ہے۔ تمہاری ماں نے بہت عظیم بچہ جنم دیا ہے۔

پھر وہ کہنے لگا ’’صرف ایک مسئلہ درپیش ہے‘ ہر پیر‘ منگل اور بدھ کو آپ میں سے کسی ایک کو مجھے سکول پہنچانا ہوگا اور جب ہم لوگ کھیل ختم کر لیں تو مجھے وہاں سے واپس بھی لانا ہوگا۔ آپ کے خیال میں اس پنگے کو اچک کر کس نے پکڑا؟ یقیناً میں نے اور میری بیوی نے‘ سارا معاملہ خوشی مناتے مناتے بندر میں بدل گیا۔

زیادہ برا یہ ہوا کہ یہ تازہ بندر طلسم ہوش ربا کی طرح قد آور ہونے لگا میری بیوی میرے بیٹے سے کہنے لگی ’’میں تمہیں پیر اور منگل کے روز سکول چھوڑنے جا سکتی ہوں لیکن بدھ کے روز میرے لئے ممکن نہیں‘ تمہاری ٹیم میں اور کون کون ہے؟ ہو سکتا ہے میں ٹراسپورٹ کا مسئلہ اس طرح حل کر دوں کہ آپ لوگ ایک ہی کار میں بیٹھ کر سفر کر سکیں۔

جب میرے بیٹے نے بتایا کہ ٹیم میں اور کون کون ہے تو اس نے کہا ’’لاڈو! میں ابھی جھٹ سے یہ مسئلہ حل کر دوں گی اور تمہیں بتا دوں گی کہ تمہیں کون چھوڑا کرے گا؟‘‘ اس کے بعد ہمارا بیٹا انتہائی خوشی سے شکریہ کہتے ہوئے ٹیلی ویژن دیکھنے چلا گیا‘ اس کی بلا سے مسئلہ کیسے حل ہوگا؟

ظاہر ہے میرا بیٹا کار چلانا نہیں جانتا تھا اس لئے خود آنا جانا اس کے لئے مشکل تھا لیکن وہ اسکول میں تعلیم و تربیت اور گھر کے قریب کرکٹ کلب میں جا سکتا تھا اور اس دوران اپنی ذمہ داری خود اُٹھانا بھی سیکھ سکتا تھا‘ اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ ہم کس قدر آسانی سے غیر ضروری طور پر زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی لوگوں کے بندر پکڑ لیتے ہیں‘ اس دوران ہم اپنے فرائض منصبی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یوں ہم دوسرے لوگوں کو اپنی ذات پر انحصار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور انہیں اس تربیت سے محروم کردیتے ہیں جو اپنے مسائل حل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔

آج جب میں ماضی کے حوالے سے سوچتا ہوں تو مجھے یہ مقولہ زیادہ اچھی طرح سمجھ آرہا ہے کہ اگر آپ کسی کو اپنا بنانا چاہتے ہیں تو اسے کبھی اس چیز کا احساس نہ ہونے دیں کہ وہ ہمہ وقت آپ پر تکیہ کر سکتا ہے۔ بلکہ اسے یہ محسوس کرائیں کہ کسی نہ کسی طرح آپ اس پر انحصار کر رہے ہیں‘‘ اب میں جا ن گیا ہوں کہ ایک دوست کو دشمن میں بدلنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنے احسانات تلے دبا دیا جائے۔ آپ کو بھی اچھی طرح یاد ہو گا کہ جب بھی آپ نے کسی پر احسانات کئے پھر اس نے آپ کو دھوبی پٹخا ہی مارا۔

جب میں دوپہر کے کھانے پر میاں عبدالعزیز کے ساتھ ہونے والی گفتگو پرغو ر غوص کر رہا تھا تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ اس بات پر متفق تھے کہ میں ایک ’’نجات دہندہ‘‘ کا کردار ادا کر نے کی کوشش کر رہا ہوں یعنی میں دوسروں کے لئے وہ کام کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو وہ اپنے لئے خود کر سکتے تھے اور اس اثناء میں میں انہیں یہ پیغام دے رہا تھا کہ وہ نااہل ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب بھی کوئی شخص میرے پاس اپنا مسئلہ لے کر آتا تھا اور رضا کا رانہ طور پر اُس شخص سے مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کر لیتا ہوں تو ایسے میں میں درحقیقت یہ کہہ رہا ہوتا تھا تم اس مسئلے کو حل کرنے کے اہل ہی نہیں ہو اس مسئلے کو خود میں ہی حل کروں تو بہتر ہے۔

میاں عبدالعزیز نے کہا کہ وہ اکیلے ہی یہ سب پنگے بازی نہیں کر رہے تھے‘ سچ مچ پنگے بازی تو ہمارے ملک میں ایک بیماری کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ انہوں نے ’’انجمن شہید وفاء‘‘ جیسی تنظیم کی داغ بیل ڈالنے میں بھی کچھ پیش رفت کی۔ یہ تنظیم دوسروں کے بندر گود لینے کے خبط میں مبتلا لوگوں نے چلانی تھی‘ یہ ایسے ’’نیک‘‘ اور ’’محبت کرنے والے‘‘ لوگوں کا گروہ ہونا تھا جو دوسروں کی مدد اور خدمت کیلئے ادھار کھائے بیٹھے رہتے ہیں‘ بلکہ حقیقت میں یہ لوگ دوسروں کو مدد کی آڑ میں مفلوج کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ’’نجاشادہندگی‘‘ کو اپنے معاشرے اور حکومت میں قریباً سرکاری حیثیت دے رکھی ہے۔

پھر میاں عبدالعزیز نے اس ملک میں موجود نجات دہندہ بننے کی ذہنیت کو اپنی چھوٹی سی کرکٹ ٹیم کی مثال سے واضح کیا‘ مجھے اب بھی ان کے الفاظ واضح طور پر اپنی سماعت سے ٹکڑاتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔

میاں عبدالعزیزنے کہا، ’’یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں بچہ تھا اور سب لو گ مجھے جی جی پکارتے تھے۔ ایک تو یہ میرا نک نیم تھا، دوسرا میں ویسے بھی بہت جی! جی! کرتا تھا۔ ہم لوگ کرکٹ کھیلنا چاہتے تھے تو ہمیں تین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ سب سے پہلے تو ہمیں کھیل کے سامان کی ضرورت پڑتی‘ ان دنوں کھیلنے کے لئے جس واحد چیز کی ضرورت ہوتی وہ اپنا بلا ہوا کرتا تھا۔

اس دور میں دستانوں‘ پیڈز اور ہیلمٹ کا رواج تھا اور نہ ہی یہ ممکن تھا کہ آپ کا بلا ٹوٹ جائے تو آپ بھاگتے ہوئے گھر جائیں اور اپنے والدین سے نئے بلے کی فرمائش کر دیں۔ اس کی بجائے اسی بلے کو کیل ٹھونک کر اور اس پر ڈوری لپیٹ کر گزارا کر لیا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے جب اس طرح کے کسی مرمت شدہ بلے سے ہم لوگ کوئی زور دار شاٹ کھیلتے تو پھر کتنی دیر تک سنسناہٹ کی وجہ سے ہمارے ہاتھ درد کرتے رہتے۔

نو سال کی عمر تک تو مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کرکٹ کی گیند سُرخ ہوتی ہے‘ یہ عقدہ مجھ پر اس وقت کھلا جب ہمارے گھر پہلا کلر ٹی وی آیا۔ ہم تو ٹینس کی گیند پر سیاہ ٹیپ لپیٹ کر کھیلا کرتے تھے۔ بعض اوقات ٹیپ اتنی زیادہ لپیٹ دی جاتی کہ نہ صرف گیند کا سائز بڑا ہوجاتا بلکہ گیند زیادہ سخت اور وزنی ہو جاتی جس کی وجہ سے ہمیں اونچی شارٹس کھیلنے میں دشواری ہوتی۔

اور دستانے؟ میاں عبدالعزیز نے اپنی گفتگو جاری رکھی ’’حالانکہ میرا تعلق کوئی جونپڑ پٹی سے نہ تھا لیکن ہم لوگ اکثر بغیر دستانوں کے ہی کھیلنے آتے۔ آج میں ایسے بچوں کو جانتا ہوں جن کے پاس دستانوں کی تین تین چار چار جوڑیاں ہوتی ہیں۔

آخر کار ہمارا سامان مکمل ہوجاتا تو پھر دوسرا مسئلہ یہ اُٹھ کھڑا ہوتا کہ کھیلا کہاں جائے؟ اگر تو آپ کسی شہر کے رہنے والے ہو تو کسی ایسے چوک میں کھیل لیا جاتا جہاں ٹریفک زیادہ نہ ہوتی اور لوگ اپنی گاڑیوں کو ذرا سنبھا ل کر چلانے پر آمادہ نظر آتے۔ وکٹوں کی جگہ لوہے کی تین سلاخوں کا ویلڈنگ شدہ سٹینٖڈ کھڑا کر لیا جاتا اور اگر کسی گائوں میں رہائش ہوتی تو پھر کسی خالی کھیت میں میدان جمتا‘ بس اس میں موجود پتھروں کی صفائی کرنا پڑتی سوائے ان پتھروں کے جنہیں ہم نشان کے طور پر استعمال کرتے تھے۔