!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط5

ڈاکٹر صداقت علی

میاں عبدالعزیز نے میرے اس مشاہدے سے اتفاق کیا کہ کچھ مسئلے واقعی ایسے ہیں جو مجھ سے ہی تعلق رکھتے ہیں لیکن اس بات سے ہم دونوں نے اتفاق کیا کہ میرے دفتر میں موجود مسئلوں کی غالب اکثریت کا تعلق مجھ سے نہیں تھا اور انہیں گود نہیں لینا چاہئے تھا۔ ظاہر ہے یہ محض پنگے تھے جو میں نے لئے! اس پر طرہ یہ کہ مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ میں پنگا لے رہا ہوں۔

آپ آسانی سے تصور کر سکتے ہیں کہ یہ گورکھ دھندہ کس طرح ایک منحوس چکر کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ جب میں ایسے پنگے گود لیتا تھا تو میرے ماتحتوں کو بالواسطہ یہ پیغام ملتا تھا کہ گویا میں پنگوں کا شوقین ہوں‘ پس قدرتی طور پر میں جتنے زیادہ پنگے لیتا تھا وہ اتنے ہی اور پنگے مجھے دینے کے لئے تیار رہتے تھے۔ جلد ہی میرے پاس پنگوں کا جم غضیر موجود ہوتا۔ مجھے اپنے باس اور دوسروں کی ذمہ داریوں کے علاوہ ما تحتوں کے پنگے سارا دن مجھے مصروف رکھتے، لیکن پنگے تھے کہ لپکتے ہی چلے آتے، یوں سمجھئے کہ پنگوں کی ایک بارات تھی جس میں گھرِا ہوا تھا اور میں پرائی شادی میں احمقوں کی طرح دھمال ڈال رہا تھا۔

آخر کار میں ایک ایسے مر حلے پر پہنچ گیا جہاں میرے پاس مزید کوئی وقت نہ تھا لیکن پنگے تھے کہ بن بادل برسات کی طرح چلے آرہے تھے۔ پھر وہ وقت آیا کہ میں نے اپنے کام ملتوی کرنے شروع کر دئیے‘ میں ٹال مٹول کرتا جا رہا تھا اور میرا عملہ مجسم انتظار تھا۔ ہم دونوں ہی اہم کاموں کو نہیں کر پا رہے تھے! میں ماتحتوں کی ذمہ داریاں اُن سے چھین لیتا تھا اور جو پنگے میں لیتا تھا وہ میری سکت سے زیادہ ہوتے تھے اور اس پر طُرہ یہ کہ دونوں کی توانائیاں ایک منفی کام پر ضائع ہو رہی تھیں۔

حد ہو گئی! میں نے اپنی ذاتی نوعیت کی مصروفیات مثلاً ورزش‘ مشاغل‘ سماجی‘ مزہبی و خاندانی سرگرمیوں سے وقت چرانا شروع کر دیا‘ ایسے میں میں یہ بودی دلیل دیا کرتا تھا کہ ان مصروفیات میں وقت کی مقدار سے کہیں زیادہ اہم چیز وقت کا معیار ہے۔

میری ٹال مٹول سے میرے کارکن جامد ہو کر رہ گئے تھے۔ ان کی وجہ سے دوسرے شعبے بھی جمود کا شکار ہو گئے۔ جب وہ لوگ مجھ سے شکایت کرتے تو میں جلد ہی مسائل حل کر کے ان سے ملنے کا وعدہ کرتا اس طرح دائیں بائیں سے جھپٹتے ہوئے پنگوں کے ساتھ میری مصروفیت سے میرے ماتحتوں کے پاس اور بھی زیادہ وقت بچ جاتا۔ پھراعلٰی انتظامیہ کو بھی اس بات کی بھنک پڑ گئی کہ میرے ہاں دال میں کچھ کالا ہے‘ حالانکہ پوری دال ہی کالی تھی انہوں نے مجھ سے پوچھ گچھ شروع کر دی کہ آخر مریضوں کو مطلوبہ خدمات احسن طریقے سے اور بروقت کیوں نہیں ملتیں؟ اور میری اوپی ڈی مچھلی مارکیٹ کا منظر کیوں پیش کرتی ہے؟ یہ اُوپر سے نیچے لٹکتے ہوئے پنگے تو اِلا ماشاء اللہ سب ہی پنگوں پر سبقت لے گئے نکہ یہ اتنا وقت کھانے لگے کہ باقیوں کے لئے وقت نہ بچتا‘ مجھے یوں لگتا کہ جیسے میں بہت سے بندروں میں گِھرا رہتا ہوں جو میری زندگی کو اجیرن بنانے میں کو کسر نہ چھوڑتے۔ آج جب میں پلٹ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ادارے پر میری ہی وجہ سے فالج گِرا ہوا تھا‘ جس قدر’’بربادی‘‘ میں نے پھیلائی تھی وہ ناقابلِ یقین تھی۔

یقیناً سب سے بڑا مسئلہ میرے قیمتی وقت کا زیاں تھا۔ دوسروں کی ذمہ داریوں پر وقت خرچ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرے پاس اپنے کاموں کے لئے کوئی وقت ہی نہ تھا۔ میں لوگوں سے کام لینے کی بجائے ان کے اشاروں پر چل رہا تھا‘ بس گزارہ مزارہ ہی ہو رہا تھا۔

دوپہر کے کھانے پر میری اور میاں عبدالعزیز گفتگو کا موضوع زیادہ ترپنگوں اور ان کی وجہ سے پیدا ہونے والے زلزے کے جھٹکوں کے اردگرد ہی رہا۔ جب کھانا ختم ہونے کو تھا مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ مجھے اس مسئلے کا حل تو معلوم ہی نہیں۔

مجھے بالکل یقین نہ تھا کہ میں اپنی ہمہ وقت پنگے بازی کے بارے میں کوئی قدم اُٹھا سکوں گا‘ پس میں نے گھٹنے ٹیک دیئے اور کہا ’’میں مانتا ہوں کے میں ہو لی فیملی ہسپتال جیسے بڑے ہسپتال کی تنظیمی ذمہ داریاں کو سنبھالنے میں ناکام رہا ہوں‘ پھر میں نے سوچا آخر اس مرض کی دوا کیا ہے؟ میں اپنے باس کے ساتھ پیدا ہونے والے مسائل کا کیا کروں؟ نیز ادارے میں میرے ساتھی میرا وقت ڈکار جاتے ہیں اس کا کیا حل نکالوں؟

انہوں نے جواب دیا ’’تمہاری پنگے بازی بہت گھمبیر شکل اختیار کر چکی ہے۔ تم ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دائیں بائیں دوسرے لوگوں اور کلائینٹس سے پنگے لے رہے ہو، تمہارے رفیق کار تم سے مشورہ کرنے بیٹھیں تو تم پھر بھی پنگا لینے سے رک نہیں سکتے اور تمہارے ماتحت تو اس وہم میں مبتلا ہیں کہ تمہیں پنگے لینے کا بے انتہا شوق ہے اس لئے وہ موقع ملتے ہی پنگے تمہاری طرف اچھالنے لگتے ہیں‘‘ اگر تم اپنے ماتحتوں کے ساتھ ’’حالات‘‘ کو درست کرلو تو تمہارے پاس اتنا وقت بچے گا کہ تم پنگوں کی دوسری دو قسموں سے نپٹ سکو لیکن یہ نہ تو اس مسئلہ کو زیرِبحث لانے کا مقام ہے اور نہ ہی اِسے حل کرنے کا۔

اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تم اس سیمینار میں شرکت کرو جس کا عنوان ’’روزمرہ زندگی میں وقت کو لگام کیسے دیں؟ ہے۔ میں نے انہیں یاد دلایا کہ میں پہلے ہی وقت کو منظم کرنے کے بارے میں ایک سیمینار میں شرکت کر چکا ہوں لیکن اس سے مسئلہ بگڑا ہی ہے۔

اوہو! وہ گویا ہوا لیکن یہ سیمینار مختلف ہے اس سے قبل جس کورس میں تم نے شرکت کی اس کا مقصد یہ سکھانا تھا کہ کاموں کو درست کیسے کیا جائے؟ وہ بھی ٹھیک تھا لیکن وہاں تمہیں یہ سکھانے سے سے غفلت برتی گئی کہ کیوں نہ کام پہلے ہی درست طریقے سے کیے جائیں؟

اس سیمینار میں شرکت کے بعد تم پہلے سے زیادہ چابکدست ہو گئے اور تم نے وہ کام کرنے شروع کر دیئے جو تمہارے کرنے کے نہ تھے‘ تمہاری مثال ایک ایسے پائلٹ کی سی ہے جو غلط ایئر پورٹوں پر شاندار لینڈنگ کرتا ہو۔ جس سیمینار کی میں سفارش کر رہا ہوں اس میں تم یہ بھی سیکھوگے کہ

وہ کام جنہیں کرنے کی ضرورت نہ ہو تو ان کاموں کو کرنے سے باز رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

جب ہم ریستوران سے باہر نکل رہے تھے تو میں نے میاں عبدلعزیز کا شکریہ ادا کیا اور وعدہ کیا کہ میں سیمینار میں ضرور شرکت کروں گا‘ تاہم میں دل ہی دل میں حیران ہو رہا تھا کہ آخر میں اس سیمینار میں شرکت کیلئے دو دن کہاں سے نکالوں گا؟ جب میں نے ان سے یہ سوال پوچھا کہ آخر انہوں نے پنگے لینے سے اجتناب کرنا کہاں سے سیکھاتھا تو پھر ٹھیک یہی وہ وقت تھا جب مجھے اپنی زندگی کا شدید ترین جھٹکا لگا۔

میاں عبدالعزیز نے مسکراتے ہوئے کہا ’’کسی زمانے میں مجھے بھی یہی عارضہ لا حق تھا میں بھی ہمہ وقت پنگے لینے کے لیے بے قرار رہتا تھا بلکہ صورت حال اس سے بھی ابتر تھی۔ تمہاری طرح میرا مستقبل بھی خطرے میں تھا اور میں بھی بہت گھبرایا ہوا تھا۔ پنگے بازی بھی ایک طرح کی ایڈکشن ہے۔ ایک روز وقت کو منظم کرنے کے بارے میں ایک سیمینار کا تعارفی کتابچہ میری میز پر پڑا تھا اس کا نام تھا، ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔

میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس سیمینار میں ضرور شرکت کروں گا‘ میرے دھن بھاگ کہ میں نے یہ فیصلہ کیا‘ وہیں سے میں نے ڈسپلن سیکھا اور آخر پنگے بازی سے باز آگیا۔

یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میاں عبدالعزیز جیسا کامیاب مینجر بھی کبھی مجھ جیسے حالات کا شکار رہا ہوگا‘ میں نے ان سے گزارش کی کہ وہ مجھے اس سلسلے میں مزید کچھ بتائیں‘ وہ فوراً ہی خوشی سے سب کچھ بتانے پر آمادہ ہو گئے۔

یہ کورس الطاف گوہر نے دبئی میں منعقد کیا تھا‘ میں اس سحر زدہ کر دینے والی کہانی کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا جس نے اس مسئلے کے بارے میں میری آنکھیں کھول دیں‘ یہ ڈرامائی کہانی خوفناک حد تک میری ہی آپ بیتی تھی۔

الطاف گوہر نے ہمیں بتایا کہ کس طرح تمہاری اور میری طرح وہ بھی گھنٹوں کام کرتا رہتا تھا لیکن پھر بھی کام تھا کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتا تھا۔ مجبوراً ایک دن جمعہ کے روز بھی کام کرنے کے لئے گھر سے نکلنے لگا تو اس نے اپنی “اداس ناراض بیوی اور حیران بچوں سے کہا ’’میں یہ تمام قربانیاں تم ہی لوگوں کے لئے تو دے رہا ہوں‘‘ اس کے یہ الفاظ سن کر میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کیونکہ ابھی گزشتہ ہفتے یہ الفاظ میں نے اپنی بیوی بچوں سے کہے تھے۔

الطاف گوہر نے ہمیں بتایا کہ کس طرح اس نے جمعہ کے روز اپنے دفتر کی کھڑکی سے باہر گالف کے میدان میں دیکھا جہاں اس کے ماتحت والی بال کا مزہ لینے کے لئے تیار تھے۔ ان کا مزہ شروع ہونے کو تھا اور میرا ختم ہونے کو۔ میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا کہ اگر میں جادو کے زور سے مکھی بن جائوں اور اُڑ کر ان لوگوں کے سروں پر بھنبھنانا شروع کر دوں تو کچھ اس قسم کی گفتگو سنائی دے گی تم نے دیکھا باس کی کار کھڑی ہے وہ آج بھی کام کرنے آیا ہے لگتا ہے آخر کار اس نے حق حلال کی کھانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔

میاں عبدالعزیز نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’پھرالطاف گوہر نے ہمیں بتایا کہ اس نے اپنی میز پر پڑے کاغذات کے پلندے پر نظر ڈالی۔ اسے احساس ہوا کہ یہ تمام کام اس کے تو نہیں ہیں۔ وہ تو ان لوگوں کے کام دھندے نپٹا رہا ہے‘ یہ تو انہی لوگوں کے کام ہیں جو وہ نہیں کر پا رہا‘ اس نے آج تک اپنا کام تو شروع ہی نہیں کیا کیونکہ وہ تو دوسروں کے کام کاج ہی کرتا رہتا ہے پھر بجلی کی طرح ایک خیال اس کے ذہن پر کوندا ’’وہ میرے ماتحت نہیں ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میں ان کا ماتحت ہوں! وہ سب مل کر کام پیدا کر رہے ہیں اور میںتنہا اسے نپٹانے کی کوشش کر رہا ہوں ‘
اس طرح تو میں ساری زندگی یہ کام ختم نہیں کر سکوں گا کیونکہ میںجتنا زیادہ کام کروں گا یہ لوگ اتنا ہی مزید کام لا کر میری میز پر رکھ دیں گے۔‘‘