!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط4

ڈاکٹر صداقت علی

انہوں نے پنگے کی تشریح ایک مثال کے ساتھ کی جو حقیقی زندگی کے اتنا قریب تھی کہ میں آپ کے سامنے آج بھی اسے حرف بہ حرف بیان کر سکتا ہوں۔ ’’فرض کرو کہ میں اپنے ادارے کے ہال میں سے گزر رہا ہوں اور ایک کارکن سے میرا آمنا سامنا ہوتا ہے جو قریب آکر کہتا ہے ’’السلام علیکم! جناب ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے، کیا آپ مجھے ایک منٹ دے سکتے ہیں؟‘‘ اب چونکہ میرا اپنے کارکنوں کے مسائل سے آگاہ رہنا ضروری ہے اس لئے میں وہاں رک جاتا ہوں اور وہ مجھے اپنا مسئلہ وضاحت سے بتانا شروع کر دیتا ہے۔ چونکہ مجھے مسئلے حل کرنے کا خبط ہے، سو میں اس میں ڈوب کر رہ جاتا ہوں اور وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا، بظاہر پانچ منٹ گزرے لگتے ہیں، جب میں اپنی گھڑی پر نظر ڈالتا ہوں تو تیس منٹ گزر چکے ہوتے ہیں۔ اب جہاں میں جا رہا تھا، اس تبادلہ خیالات کے نتیجے میں وہاں پہنچنے میں تاخیر تو ہو ہی جائے گی مگر اس تبادلہ خیالات کے دوران میں یہ بھی جان چکا ہوں کہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے میری رہنمائی ضروری ہے لیکن محض اتنی معلومات کی بنیاد پر میں کچھ فیصلہ کرنے راہنمائی دینے سے قاصر ہوں۔ پس میں کہتا ہوں ’’یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے لیکن اس وقت میرے پاس اس موضوع پر بات کرنے کے لئے مزید وقت نہیں ہے مجھے اس پر کچھ سوچ بچار کرنے کے لئے وقت دو،پھر میں خود ہی تم سے رابطہ کروں گا اور پھر ہم دونوں ایک دوسرے سے جداہو جاتے ہیں۔

انہوںنے بات جاری رکھی ’’چونکہ میں براہ راست اس مسئلے میں الجھا ہوا نہیں ہوں اس لئے تم آسانی سے اس گو رکھ دھندے کو چشم تصور سے دیکھ سکتا ہوں، تاہم میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر تم جو خود اسی منظر کے وسط میں کھڑے ہو تو اسے صاف دیکھ لینا تمہارے لئے انتہائی کٹھن ہوگا، ذرا تم یہ تصور کرو کہ یہ کام جو تمہارے فرائض منصبی میں شامل نہیں، دراصل ایک پنگا ہے بلکہ تم اسے ایک بندر تصور کر لوتو اس ہال کمرے میں ملاقات سے قبل یہ بندر تمہارے عملے کے ایک فرد کی پُشت پر تھا، جب تم دونوں اس مسئلے پر گفتگو کر رہے تھے تو اس بندر کی ایک ٹانگ تمہاری پُشت پر تھی اور دوسری کارکن کی پُشت پر، لیکن جب تم نے یہ کہا کہ’’مجھے اس مسئلے پر غور کرنے دو پھر میں تم سے خود ہی رابطہ کر وں گا‘‘ تو بندر نے تمہا رے ماتحت کی پُشت سے اپنی دوسری ٹانگ اٹھا کر تمہاری پُشت پر رکھ دی تھی اور اس طرح تمہارا ماتحت تیس پونڈ ہلکا محسوس کرتا ہوا روانہ ہو گیا ،کیوں؟ کیونکہ اب بندر کی دونوں ٹانگیں تمہار ی پُشت پر منتقل ہو چکی تھیں۔

آئیں اب چند لمحوں کے لئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ زیرِ بحث مسئلہ تمہارے کارکن کے فرائض منصبی سے تعلق رکھتا تھا اور مزید ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اپنے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے وہ چند تجاویز بھی پیش کر سکتا تھا، ایسی صُورت میں جب تم نے پنگا لینے کا فیصلہ کرلیا، تم دو ایسے کام کر گزرے جو تمہارے ماتحت کے کرنے کے تھے۔

تم نے اس شخص کے مسئلے کی ذمہ داری قبول کی اور تم نے اس شخص سے مسئلہ سُلجھانے کا وعدہ بھی کر ڈالا۔

ٹھہرو! میں تمہیں تفصیل سے سمجھاتا ہوں ہرمسئلے میں دو پاٹیاں ملوث ہوتی ہیں۔

ایک جسے مسئلے کو سلجھانا ہوتا ہے۔

اور دوسری جسے راہنمائی کرنا ہوتی ہے۔

لیکن جسے راہنمائی کا فریضہ انجام دینا ہوتا ہے اگروہ مسئلہ خود سے سلجھانے کا بیڑا اٹھائے تو پھر مسئلہ ایک پنگے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

جب ایک ہداتیکار اپنا کام چھوڑکر ایک درجن اداکاروں کی ذمہ داریاں اٹھالے تو کیا ہو گا؟

حالیہ بیان کردہ واقعہ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ تم نے کارکن کا کردار سنبھال لیا‘ تمہارے ماتحت نے تمہاری نگرانی کا فریضہ انجام دینا شروع کر دیا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ تم نئے باس کو پہچان لو اگلے دن وہ کئی دفعہ تمہارے دفتر میں آن ٹپکے گا اور پوچھے گا کہ تم نے اس مسئلے کا کیا کیا؟ اگر تم نے اس مسئلے کا کوئی حل اس کی تسلی کے مطابق نہ نکالا ہو تو وہ فوراً ہی تم پر اس کام کو نپٹانے کے لئے دبائو ڈالے گا جو دراصل اس کا اپنا ہی کام تھا۔

میں ہکا بکا رہ گیا۔ میاں عبدالعزیز کی بیان کردہ کہانی میں جب میں نے کرداروں کو گڈ مڈ ہو کر بدلتے دیکھا تو مجھے چشمِ تصور میں درجنوں پنگے نظر آئے جوحالیہ دنوں میں لے چکا تھا۔

ان میں سے تازہ ترین پنگا مجھے بنیامین نے ایک چٹھی کی صورت میں دیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ جناب! شعبہ خریداری ’’ادویات کی درآمد‘‘ پر ہمیں مدد فراہم نہیں کر رہا کیا آپ ان کے مینیجر سے اس سلسلے میں بات چیت کر سکتے ہیں؟‘‘ اور یقیناً میں رضا مند ہو گیا اس وقت سے اب تک بنیامین دو مرتبہ اس مسئلے کی پیروی کے لئے پوچھ گچھ کر چکا ہے ’’جناب! ادویات کی درآمد کے منصوبے کا کیا بنا ہے؟ میں نے پشیمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا نہیں ابھی میری ان سے بات نہیں ہوئی لیکن فکر نہ کرو میں جلد ہی بات کر لوں گا۔

ایک اور پنگا میری طرف مریم نے اچھالا تھا‘ اس نے مجھ سے اس لئے مدد کی درخواست کی تھی کیونکہ بقول شخصے میں اس کی نسبت بعض ’’تکنیکی امُور‘‘ پر زیادہ مہارت اور گہری نظر رکھتا ہوں۔ یہاں آپ مکھن کی بھینی بھینی خوشبو محسوس کر رہے ہوں گے۔

میں نیک محمد سے ایک لینے کا وعدہ کر چکا تھا‘ اس کی خواہش یہ تھی کہ میں اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں طے کردوں کیونکہ وہ ابھی حال ہی میں ایک نئے عہدے کیلئے ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے پرتول رہا تھا پس اس نے اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں مجھ سے پوچھا تو میں نے اس سے وعدہ کر لیا کہ میں جلد ہی اس کے عہدے کی ذمہ داریاں اسے لکھ کر دوں گا۔

میرے ذہن میں ایسے بے شمار پنگے آنا شروع ہو گئے جنہیں میں نے خود ہی اپنے اعصاب پر سوار کر رکھا تھا۔ حال ہی میں دو پنگے نامکمل کام کی صورت میں شمائلہ اور طارق نیازی نے مجھے دئیے تھے۔ میں ابھی شمائلہ کے پنگے کا تجزیہ کر رہا تھا اور ان پہلوئوں پر غور کر رہا تھا جن پر ابھی مزید کام کرنا باقی تھا کہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ نئی بحث میں الجھنے سے بہتر ہوگا کہ میں پنگے بازی میں اوج کمال حاصل کروں اور اس کا کام خود ہی نمٹا دوں۔

پنگے‘ پنگے‘ پنگے! میرے پاس کچھ ایسے پنگے بھی تھے جو دوسروں کے لئے بھی درد سر بنے ہوئے تھے‘ یہ پنگے مریم نے میرے حوالے کئے تھے۔ مریم کے کام اور ذاتی عادات سے ادارے کے دوسرے ساتھیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا‘ پھر یہ لوگ مسائل میرے پاس لے کر آتے اور میں ہمیشہ ہی اپنا مخصوص رٹا رٹایا جواب دے دیا کرتا اچھا میں اس مسئلے کو حل کر کے آپ سے رابطہ کروں گا۔

جب میں نے اس صورتِ حال پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے احساس ہونے لگا کہ کچھ پنگے دراصل مواقع ہوتے ہیں‘ مثال کے طور پر بنیامین بہت زبردست تخلیقی صلاحیتوں کا مالک ہے اور اس کے ذہن میں انتہائی اعلٰی اور اچُھوتے خیالات جنم لیتے ہیں لیکن نرم سے نرم الفاظ میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو بخیرو خوبی اپنے انجام تک پہنچانے کی خاطر خواہ صلاحیت نہیں رکھتا ۔پس اس مجھے بے شمار ایسی سفارشات ارسال کیں جو اگرچہ ادھوری تھیں لیکن ان میں اتنی جان تھی کہ میں نے ان میں سے ہر ایک پر فرداً فرداً کام کرنے کے لئے یادداشتیں لکھ لیں تا کہ ان سفارشات کو منافع بخش صورت دی جا سکے۔

جیسے جیسے ایک کے بعد دوسرا پنگا میرے دماغ میں آتا چلا گیا ویسے ویسے مجھ پر یہ واضح ہوتا چلا گیا کہ ان میں سے بیشتر مسائل میرے ماتحتوں کو ہی سلجھانے چاہئیں تھے تاہم کچھ مسئلے واقعی میرے تھے یعنی وہ میرے ہی کرنے کے کام تھے۔ مثا ل کے طور پر اگر میرا کوئی کارکن بیمار ہو‘ ناتجربہ کار ہو یا پھر کسی وجہ سے اہلیت نہ رکھتا ہو تو ایسی صورت میں مجھے مدد فراہم کرنی چاہئے اور جب کبھی ہنگامی حالات پیدا ہو جائیں تو مجھے ایسے مسئلے بھی پکڑ لینے چاہئیں جو عام حالات میں اسٹاف سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک اور مثال ان مسئلوں کی ہے جو جائز طور پر میرے بنتے ہیں وہ ایسے کام ہیں جن کے لئے میرے کارکنان باضابطہ طور پر مجھ سے درخواست کریں۔ ایک مرتبہ کوئی ایسا مسئلہ میں باضابطہ طور پر پکڑ لوں تو پھر اسے سلجھانے اور منزِل مقصُود تک پہنچانے کے مختلف مراحل بھی مجھے ہی طے کرنے چاہئیں۔ مجھے ایسی سفارشات کو پڑھنا چاہئے یا جب ان کی تشریح کی جا رہی ہوتوسننا چاہیے‘ اس کے بارے میں سوالات کرنے چاہئیں‘ اس پر غور کرنا چاہئے‘ فیصلہ کرنا چاہئے‘ اس پر ردِعمل دینا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔