!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط3

ڈاکٹر صداقت علی

میرے ماتحت تو ہاتھ دھو کر میرے وقت کے پیچھے پڑے تھے، لیکن کچھ اور لوگ بھی تھے جنہوں نے ہاتھ دھونے کا تکلف بھی گوارہ نہ کیا تھا، جب میں نے ان
:سب لوگوں کو جمع کیا تو میرے خیال میں یہ ایک بہترین تبصرہ تھا جو میرے دل کی گہرائیوں سے ابھر

غالباً مجھے ان لوگوں کے بارے میں شکایت نہیں کرنی چاہئے جنہیں ہر دم میری ضرورت رہتی ہے، بلکہ آج کل جیسے حالات جا رہے ہیں ہر فن مولا ہونے میں ہی مجھے اپنی نوکری پکی نظر آتی ہے۔

میاں عبدالعزیز نے فوراً ہی اس بات پر مجھ سے اختلاف کیا، انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ منتظم جن کے بغیر گزارہ ممکن نظر نہیں آتا، جب وہ دوسروں کے کام میں پنگا کرتے ہیں، وہ بہت گٹربٹر مچاتے ہیں وہ افراد جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر گزارہ نہیں لہذا انہیں نکالا نہیں جا سکتا، اکثر گڑبڑ کی وجہ سے نکالے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اگر وہ اپنے آپ کو کسی عہدے کے لئے لازم و ملزوم ثابت کر دیں تو افسران بالا ایسے افراد کو ترقی دینے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے کیونکہ انہوں نے اپنا جانشین تیار نہیں کیا ہوتا۔

ان کی وضاحت نے میرے خیالات کی رو کو باس کے ساتھ ہونے والی آخری گفتگو کی طرف موڑ دیا میاں عبدالعزیز نے کہا کہ اگرچہ اس قسم کے مینیجر کو ایسا کوئی عندیا نہیں دیا جاتا کہ ان کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا، لیکن جیسے جیسے میں اس بارے میں سوچتا چلا گیا مجھے احساس ہوتا گیا کہ اگر جلد ہی میں نے اپنا یہ مسئلہ حل نہ کیا تو ان کے ساتھ میری اگلی گفتگو میرے مستقبل اور کیریئر کے ’’پیچ و خم‘‘ پر ہو سکتی ہے! آخر ایسا کیوں نہ ہو؟ اگر میں اپنا چھوٹا سا شعبہ بھی نہیں چلا سکتا تو پھر شائد مجھے منتظم نہیں ہونا چاہئے- یہ خیال میرے ذہین میں ایک کوندے کی طرح لپکا، بادل زور سے گرجا میں ڈر گیا لیکن کسی نے مجھے بھینچ کر گلے سے نہ لگایا کیونکہ یہ کسی پا کستانی فلم کا سین نہ تھا۔

دوپہر کے کھانے پر یہی وہ مقام تھا جب میاں عبدالعزیز نے مجھے میرے مسائل کی انوکھی وجہ بتا کر کلین بولڈ کر دیا- سب سے پہلے تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ مسائل کو حل کرنے کے لئے میری اب تک کی کوششیں یعنی زیادہ کام کرنا، سیمینار میں شرکت وغیرہ صرف بیماری کی علامات پر اثر انداز ہوتی ہیں، بیماری کی وجہ پر نہیں- انہوں نے کہا کہ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ہم بخار کیلئے اسپرین کی ایک گولی کھا لیں لیکن بخار کی وجہ کو بالکل نظر انداز کر دیں- نتیجہ ظاہر ہے مسئلہ تیزی سے پیچیدہ ہو جائے گاْ۔

مجھے اپنی اس وقت کی سوچ یاد ہے- میں یہ تو سننا ہی نہیں چاہتا تھا کہ آج تک میں جتنی محنت کرتا آیا ہوں مسائل اسی سے بڑھے ہیں، آخر کار اگر میں نے کام نہ کیا ہوتا تو آج میں اس سے بھی بہت پیچھے ہوتا۔

میں نے اپنے مہربان کی تشخیص پر اعتراض کیا لیکن اس وقت میرے اعتراض کے غبارے سے ہوا نکل گئی جب انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ میرے کام کرنے کا ڈھانچہ میری آمد کے بعد سے اب تک بالکل نہیں بدلا، جبکہ جاب بدل گئی ہے؛ اس دوران جو واحد تبدیلی ہوئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ میرا شعبہ بدل گیا ہے لیکن میں بالکل نہیں بدلا- یکایک ایک تلخ حقیقت مجھ پر آشکار ہوئی، مجھے دشمن نظر آ گیا یعنی میں خود! مجھے اپنا طریقہ واردات بدلنا ہوگا۔

وہ لمحہ یاد کرتے ہوئے مجھے ان کارکنوں کی کہانی یاد آتی ہے جو اپنا کھانا ڈبوں میں بند کرکے لایا کرتے تھے، ان میں سے ایک نے اپنا ڈبہ کھولا اور چلا اٹھا پھر وہی “انڈہ کھیرا سینڈوچ”- یہ مسلسل چوتھا دن ہے کہ میں انڈہ کھیرا سینڈوچ کھا رہا ہوں، اور مجھے یہ بالکل پسند نہیں۔

اس کے ساتھیوں میں سے ایک بولا ’صبر صبر !‘ تم اپنی بیوی کو یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ تمہیں کوئی اور سینڈوچ بنا دیا کرے؟

بیوی! ہُونہہ وہ شخص گویا ہوا یہ سینڈوچ میں خود بناتا ہوں۔

بیوی! ہُونہہ وہ شخص گویا ہوا یہ سینڈوچ میں خود بناتا ہوں۔

تمہارا بنیادی مسئلہ پنگا لینے کی علت ہے۔

پنگا میں نے قہقہہ بلند کیا یہ بات قریباً درست لگتی ہے- میرے کام کاج کی ڈور اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ سرا دکھائی نہین دیتا لیکن آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ؟ پھرانہوں نے پنگے کی یہ تعریف بتائی۔

جب ہم یہ نہیں جانتے کہ کسی کام یا منصوبے میں اگلا قدم یا حکمت عملی کیا ہونی چاہیے اور یہ کون کرے گا اور ہم اس کی ذمہ داری فوری طور پر اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں، تو اسے کہتے ہیں “پنگا” لینا۔