!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط2

ڈاکٹر صداقت علی

بعد میں، میں نے باس کے ساتھ ہونے والی گفتگو پر کافی غور کیا ’’ٹینشن کا شکار باس!‘‘ یہ الفاظ میرے پردہ سماعت کے ساتھ ٹکراتے رہے۔ مجھے احساس ہونے لگا کہ وہ مجھ سے توقع کر رہے تھے کہ میں صورت حال کو خود ہی سنبھالوں، اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وہ خود بھی اس وقت ایک انتہائی “اہم” پنگے پر مصروف تھے۔ اسی وجہ سے میں نے میاں عبدالعزیز سے مدد کے لئے رابطہ کیا۔ وہ ایک زبردست کمپنی چلارہے تھے اور میرے پرانے خاندانی دوست تھے، انہیں ہر کوئی گرو جی کہہ کر بلاتا تھا کیونکہ وہ اپنے ماتحتوں سے بظاہر انتہائی قلیل وقت میں اور بغیر کسی مشقت کے بہترین نتائج حاصل کر لیا کرتے تھے۔ جب ہم دوپہر کے کھانے پر ملے تو ضرور میرے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ اسی لئے انہوں نے جو پہلی بات مجھ سے کی وہ یہ تھی ہوں! تو پھر ہسپتال کا انتظام چلانا اتنا آسان نہیں جتنا کہ تم نے سمجھا تھا۔

“اس جملے سے صورت حال کا مکمل احاطہ نہیں ہوتا، میں نے جواب دیا اور انتہائی غمگین لہجے میں کہا ’’وہ بھی کیا دن تھے جب میں ابھی رجسٹرار نہیں بنا تھا! میں میڈیکل آفیسر تھا، تب حالات بہت اچھے تھے کیونکہ میری کارکردگی کا انحصار میری اپنی کاوشوں پر تھا، ان دنوں میں جتنی زیادہ محنت کرتا پیداوار اتنا ہی بہتر ہوتی، یہ کلیہ اب بظاہر ترقی معکوس کا سبب بن رہا ہے۔

میں اپنے مسئلے کو تفصیل سے بیان کرتا رہا، میاں عبدالعزیز خاموشی سے سنتے رہے، کبھی کبھار وہ ایک آدھ سوال کر کے خاموشی کو توڑ دیتے جیسے جیسے ہماری گفتگو آگے بڑھتی گئی ان کے سوالات خاص اور تیکھے ہوتے چلے گئے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہسپتال میں ہر وقت کام کے سیلاب کا ریلا میری طرف بڑھ رہا ہوتا ہے، صورت حال پہلے خوف ناک ہوئی پھر دہشتناک ہوتی ہر لمحے بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ بعض اوقات ایسے دکھائی دیتا ہے کہ میں کاغذات کو تاش کے پتوں کی طرح پھینٹنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا اور اس دوران کوئی کام ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی پیش رفت

میں نے اس صورت حال کو مہارت کے ہاتھوں مقصد کی موت قرار دیا۔ یہ الٹی گنگا بہہ رہی تھی یعنی میں کام تو زیادہ کر رہا تھا لیکن حاصل کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہسپتال میں ہر کسی کو مجھ سے ہی کام ہے لیکن جو چیزیں ان کے لئے اہم ہوتیں میرے نزدیک ان کی قدروقیمت زیادہ نہ ہوتی۔ جب میں کسی ایک معاملے پر توجہ مرکوز کرتا تو لازماً اسی دوران مجھے کسی دوسری طرف دھیان دینے پر مجبور کر دیا جاتا۔ میں زیادہ وقت میٹینگز اور ٹیلی فون پر گزار رہا تھا اور میرے پاس اتنا وقت ہی نہیں بچتا تھا کہ اپنے منصوبوں کو پایا تکمیل تک پہنچانے کیلئے بھی کچھ ضروری اقدام کروں۔ یاد رہے کہ تب سیل فون ایجاد نہیں ہو تھا ورنہ تو مجھے کان کھجانے کی فرست بھی نہ ملتی، لہذا میں ایک طرح سے کان ہی کھجاتا رہتا تھا۔

میں نے انہیں وقت کے صحیح استعمال پر ایک سیمینار میں شرکت کے بارے میں بھی بتایا ۔ ایمانداری کی بات ہے کہ سیمینار میں شرکت کے بعد حالات مزید ابتر ہو گئے۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس 3 روزہ سیمینار میں شرکت کے بعد میرا کام مزید تین دن پیچھے چلا گیا، مزید برآں اگرچہ مجھے اس سے اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں کچھ مدد ملی لیکن ساتھ ہی ساتھ میں نے محسوس کیا کہ میری بڑھتی ہوئی کارکردگی سے میرے پاس مزید کام کرنے کی گنجائش پیدا ہو گئی ہے، میں جتنا بھی کام کرتا مزید کام میرے لئے تیار ہوتا۔

ایک میں تھا اور دوسری طرف میرے عملے کے افراد تھے، میں انہیں جہاں کہیں بھی ملتا ّ۔۔۔ آپریشن تھیٹر میں، راہداریوں میں کینٹین میں یا پارکنگ کی جگہ انہیں اپنے کسی نہ کسی کام کی تکمیل کے لئے ہمیشہ مجھ سے ہی کوئی نہ کوئی مدد چاہیے ہوتی۔ میرا اندازہ ہے کہ اسی وجہ سے مجھے زیادہ کام کرنا پڑتا تھا جبکہ وہ اکثر فارغ ہی دکھائی دیتے تھے۔ اگر میں اپنے دفتر کا دروازہ کھلا رکھتا تووہ لوگ مسلسل میرے کمرے میں گھسے چلے آتے چنانچہ میں نے اپنے کمرے کا دروازہ بند رکھنا شروع کر دیا، مجھے ایسا کرتے ہوئے دکھ ہوتا کیونکہ میں محسوس کرتا تھا کہ میں ان کا کام دبائے ہوئے ہوں، ایسے میں مجھے احساس ہوتا کہ سچ مچ میری سُستی ان کے جوش و جذبے کو کھائے جا رہی ہے۔

میاں عبدالعزیز نے توجہ کے ساتھ میری داستانِ غم سنی، جب میری بات ختم ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ میں مینجمنٹ میں بنیادی نوعیت کے ایک پھڈے کا شکار ہوں

آخر اس بات کی کیا وجہ ہے کہ باس کے پاس ہمیشہ وقت کی کمی رہتی ہے جبکہ ماتحت عملے کے پاس ہمیشہ کام کی۔