!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط13

ڈاکٹر صداقت علی

اہداف کی انشورنس زبردست کام ہے‘ اس طرح ایک ماتحت اپنے کام کاج میں سے کچھ پالیسی 1 کے تحت اور کچھ پالیسی 2 کے تحت کرتا ہے۔ میں اپنے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ جس حد تک ممکن ہو پالیسی 2 استعمال کریں اور انہیں پابند کرتا ہوں کہ جس قدر ضروری ہو پالیسی 1 پر چلیں۔ جس کام کی انشورنس آج ایک پالیسی کے تحت ہوگی‘ بدلے ہوئے حالات میں اسی کام کے لئے دوسری پالیسی کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے‘ ذیل کی مثالوں میں آپ دیکھیں کہ کس طرح بعض اوقات انشورنس پالیسیاں تبدیل کرنا پڑ جاتی ہیں‘ بعض اوقات ایسا میری رضامندی سے ہوتا ہے اور کئی دفعہ میرے ماتحتوںکی مرضی سے۔

پہلی مثال میرے ایک سابق ملازم اللہ دتہ کی ہے جو میری برداشت سے بڑھ کر من مانیاں کرتا تھا‘ وہ اپنی تمام ذمہ داریوں کو پالیسی 2 کی بنیاد پر پھڑکانے کا عادی تھا اور شاذو نادر ہی مجھے اس بات سے آگاہ کرتا تھا کہ آج کل وہ کیا کر رہا ہے؟ مجھے زیادہ مطلع رکھنے کے بارے میں وہ میری تمام ہدایتیں سنی ان سنی کر چکا تھا۔

کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس کا ایک منصوبہ زبردست مشکل کا شکار ہو گیا‘ میرے کلائنٹ کو اس کے بارے میں مجھ سے بھی پہلے علم ہو گیا اور اس نے مجھے کھری کھری سنادیں۔ میں سیدھا اللہ دتہ کے دفتر میں گیا اور سارا ملبہ اس پر گِرا دیا۔ میں نے اسے بتایا کہ اس کی طرف سے مجھے بے خبر رکھنے سے باس کے آفس میں مجھے کس قدر جھٹکے دئیے ہیں؟ میں آگ بگولہ ہو رہا تھا ’’میں تمہارے سامنے کلپتا رہا ہوں کہ مجھے بھی کچھ بتا دیا کرو لیکن تمہارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی‘ اب میں تمہیں بندہ بنا کر ہی رہوں گا! آئندہ تم اس منصوبے پر مجھ سے پوچھے بغیر کوئی اگلا قدم نہیں اٹھائوگے۔

شاید میں کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گیا تھا لیکن بہر حال اللہ دتہ ایک اایسی ہستی تھی جس کی الٹی سیدھی حرکتیں ان دنوں میری برداشت سے باہر تھیں۔ میں اسے اختیاراتی پالیسی نمبر 2 سے پالیسی نمبر 1 پر کھینچ لایا تاکہ میری بے قراریوں کو قرار آئے اور میری راتوں کی نیند حرام نہ ہو۔ مرتا کیا نہ کرتا‘ وہ مان گیا لیکن جیسا کہ آپ سب اندازہ لگا سکتے ہیں‘ جونہی میں کچھ ٹھنڈا ہوا اور منصوبے میں پھر سے جان پڑ گئی اس کی بے ڈھنگی چال لوٹ آئی اور وہ بڑے آرام سے واپس پالیسی 2 پر آ گیا۔

یہ تو تھا ایسے بندے کا مسئلہ جو مادر پدر آزادی کا مظاہرہ کر رہا تھا‘ اگلی مثال دوسری انتہا کے متعلق ہے جہاں پر میں نے خود ہی اپنے عملے کی ایک رکن کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ نیک پروین ایک منصوبے کے بارے میںکسی حد تک تشویش کا شکار تھی اور ہر اگلا قدم اٹھانے سے قبل مجھ سے مشورہ کرنا ضروری سمجھتی تھی۔ وہ اپنے ہر کام میں پالیسی 1 پر چلتے ہوئے میرا انگوٹھا لگوانا ضروری سمجھتی تھی‘ دوسری طرف مجھے یقین تھا کہ مجھ سے اس قدر رابطہ رکھے بغیر بھی وہ اس منصوبے کو بخیرو خوبی تکمیل تک پہنچا سکتی ہے۔ پس میں نے اسے اپنے بھرپور اعتماد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ اس مسئلے کو خود ہی حل کرے اور بعد میں مجھے اپنی کارکردگی سے آگاہ کر دے۔

جب نیک پروین میرے دفتر سے چلی گئی تو مجھے کچھ تشویش ہوئی اور میں نے سوچ ’’اگر وہ اس منصوبے کے بارے میں اتنی پریشان ہے تو پھر شاید مجھے بھی اسے سنجیدگی سے لینا چاہئیے۔‘‘ میں حیران تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی زبردست کوتاہی تو نہیں ہو گئی؟ پس میں نے اسے واپس بلایا اور پوچھا کہ اس منصوبے میں زیادہ سے زیادہ کیا گڑبڑ ہو سکتی ہے؟ خدانخواستہ ایسا ہونے کے امکانات کس قدر ہیں؟ اس کے جواب سے تو سچ مچ مجھے دل کا دورہ پڑ گیا‘ میرے پسینے چھوٹ گئے اور میرے ہاتھ کپکپانے لگے۔

میں ہکا بکا رہ گیا۔ دو سال پہلے کی بات ہوتی ہے تو اپنے خدشات کی بناء پر میں پنگا لے چکا ہوتا، میںنیک پروین سے ذمہ داری واپس لے کر سینے سے لگا کر بھینچ لیتا اور پھر خجل خواری کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہ ہوتا‘ تاہم اب میں نے یہ کیا کہ منصوبے کی ازسر نو انشورنس کی اور پالیسی 2 سے پالیسی ۱ پر لے آیا‘ میں نے نیک پروین سے کہا کہ’’اگر تمہیں تشویش ہو تو پلیز عملی جامہ پہنانے سے پہلے اپنے ہر قدم پر مجھے پھر سے اعتماد میں لینا۔‘‘ پھر میں واپس اپنے اپنی کرسی میں دھنس گیا‘ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میری جان ہی نکل گئی ہو تاہم سَر سے بوجھ اُتر گیا کیونکہ میں نے صورتِ حال کو بروقت سنبھال لیا تھا۔

بعدازاں جب منصوبہ تکمیل کے مراحل بخیرو خوبی طے کر رہا تھا اور میرا نیک پروین سے باہمی تال میل اچھا چل رہا تھا تو اپنی سمجھ بوجھ پر اعتماد کرتے ہوئے نیک پروین خود ہی اس منصوبے کے بیشتر حصوں کو اپنی مرضی سے پالیسی 2 پر لے گئی۔ جیسا کہ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ یہ منصوبہ زیادہ اہمیت اختیار کر گیا۔ میری ایک کلائنٹ محترمہ عدالت عالیہ بھی اس منصوبے پر کڑی نگاہ ڈالی۔ محترمہ عدالت عالیہ کی صاحبزادی حساس نوعیت کے مسائل کا شکار تھی اور ہماری کونسلنگ میں تھی۔ ایک دن انہوں نے ملاقات کے آغاز میں ہی مجھے پوچھا ’’بیٹی کی کونسلنگ میںپیشرفت کیسی ہے؟

میں نے اسے بتایا، “کہ میں اس منصوبے کے بیشتر حصے پالیسی 2 کے مطابق نیک پروین کو طے کرنے کا موقع دے رہا ہوں کیونکہ اس نے اپنی اہلیت ثابت کر دی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ پھلے پھولے اور اس میں نکھار آ جائے۔ اگر آپ اُن سے بات کر لیں تو زیادہ مناسب ہو گا۔

وہ کہنے لگیں ’’یہ جس طرح کا حساس معاملہ ہے اس کی مناسبت سے میں چاہتی ہوں کے چلبلی کی کونسلنگ کو براہ راست اپنے ہاتھ میں رکھیں۔‘‘جب میں نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے ایک گُر کی ایسی بات بتائی جو لوگوں کو آزادی حاصل کرنے کی خواہش اور کلائنٹس کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرتی ہے وہ کہنے لگیں‘’’آپ کے ارادے قابل تعریف ہیں‘‘ وہ کہنے لگیں ’’چلبلی کا یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے‘ اپنے لوگوں کی نشوونما کے مواقع آپ کو پھر بھی ملتے رہیں گے‘‘ انہوں نےمجھے کہا ’’محض زبردست انتظام کا مظاہرہ کرنے کے جنون میںمیرے مفادات کو داؤ پر لگائیں گے تو میری راتوں کی نیند حرام ہو جائے گی “چلبلی ہاتھ دھو کر اپنی جان کے پیچھے پڑی ہے۔ اگر اُس نے خودکشی کا قدم اُٹھا لیا تو آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

کسی بھی ادارے کا کل منافع اس کے ہزاروں اقدام کا نتیجہ ہوتا ہے‘ جس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی کمپنی کی کامیابی کا انحصار انہی اقدامات کو صحیح اور درست طریقے سے اُٹھا نے پر ہے۔ چونکہ اقدامات کی صحت انتہائی اہم ہے اس لئے وقتاً فوقتاً ان کا معائنہ لازم ہے تاکہ یہ درست اور معیاری انداز میں پایا تکمیل کو پہنچیں‘ پنگے بازی کا قلع قمع کرنے کے لئے قانون 4 اسی لئے وضع کیا گیا ہے۔

پنگے بازی کا قلع قمع کا قانون 4 کہتا ہے: باس اور ماتحت کے درمیان اس وقت تک مکالمہ ختم نہیں ہونا چاہیے جب تک کسی منصوبے کے آئندہ معائینے کی تاریخ نہ طے کر لی جائے۔

چونکہ لوگ کئی مرتبہ غیر متوقع طور پر پنگے لینا شروع کر دیتے ہیں لہٰذا منصوبوں کی صحت و تندرستی کو خطرہ لا حق ہو جاتا ہے اس لئے طبی معائینے انتہائی ضروری ہیں۔ سمجھ دار لوگ خواہ وہ کتنے ہی صحت مند کیوں نہ ہوں باقاعدہ وقفوں سے اپنا طبی معائنہ کراتے رہتے ہیں تاکہ صحت سے متعلق مسائل کو بروقت پکڑا جا سکے اور پھر ان سے نپٹا جاسکے‘ یہی قاعدہ منصوبوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر معائینے کے دوران مسائل کی نشاندہی ہو جائے تو پھر علاج تجویز کیا جاتا ہے تاہم اگر معائینے کے دوران ثابت ہو جائے کہ منصوبے کی صحت اچھی ہے تو منصوبے کے مالک کے لئے خوشخبری بن جاتی ہے۔ پس کسی منصوبے کے معائینے کے دو مقاصد ہوتے ہیں ایک یہ کہ لوگوں کو کوئی صحیح کام کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا جائے اور ان کی تعریف کی جائے‘ دوسرے مسائل کی بروقت نشاندہی ہو جائے اور قبل اس کے کہ مسائل بحرانوں کی شکل اختیار کریں ان کے بارے میں اصلاح کی کوئی راہ نکالی جائے۔ مسائل دریافت کرنے اور بروقت حل کرنے کے چار فائدے ہیں۔

باس کی طبیعت ٹھنڈی رہتی ہے۔ –
تربیت کے ذریعے لوگوں کی اہلیت بڑھتی ہے۔ –
تربیت سے باس کو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ماتحت پر تکیہ کر سکتا ہے۔ –
حتمی طور پر باس کو اس بات سے سکون ملتا ہے۔ –

آج کل دستور یہ ہے کہ میرے دفتر سے کوئی منصوبہ اپنے مالک کی پیٹھ پر سوار اس وقت تک باہر نہیں نکلتا جب تک کہ اس کے معائینے کی تاریخ کا تعین نہ کر لیا جائے۔ میں مربوط معائنوں کی تعداد کم سے کم رکھنا چاہتا ہوں اس لئے کہ اگر اس دوران منصوبے کو فوری توجہ کی ضرورت نہیں تو زیادہ سے زیادہ دیر بعد معائینے کی تاریخ پر اتفاق کر لیا جاتا ہے۔ تاہم میرے عملے کے افراد یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اس اثناء میں اگر کوئی ایسا بحران پیش آجائے‘ انہیں یامجھے منصوبے کی صحت کے بارے میں تشویش لاحق ہو جائے تو پھر ہم میں سے کوئی بھی منصوبے کے معائینے کی تاریخ کو آگے پیچھے کر سکتا ہے۔

اب ہم ’’پنگے بازی‘‘ کی ایک ایسی مثال دیکھیں گے جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ کبھی کبھار منصوبوں کے معائینے کا نئے سرے سے تعین کیوں ضروری ہے؟ بعض اوقات جب میں اپنے ادارے میں اس نیت سے گھوم پھر رہا ہوتا ہوں کہ کچھ معلومات حاصل کر سکوں اور لوگوں کو یہ بھی معلوم ہو جائے کہ میں ان میں دلچسپی رکھتا ہوں تو ایسے میں میری نظر کسی بیمار دکھائی دینے والے “بندر” پر بھی پڑ جاتی ہےجو کسی ماتحت کی گود سے باہر گرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ عام طور پر توجہ کی کمی‘ انفرادی لاپرواہی یا اجتماعی بے حسی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ شاذ و نادر ہی اس منصوبے کا مسئلہ سستی‘ کم عقلی‘ بدنیتی یا پھر اس نوع کی کوئی اور بات ہوتی ہے اکثر وہ منصوبہ اس وجہ سے بیمار ہو تا ہے کہ میرے ماتحت دیگر تمام مصروف لوگوں کی طرح اپنی ترجیحات تشکیل دیتے ہیں اور ایسے میں وہ منصوبے جو فہرست کے آخر میں ہوتے ہیں بعض اوقات مشکلات سے دوچار ہو جاتے ہیں اور عام طور پر انہوں نے مجھے منصوبے کے بارے میں اس لئے آگاہ نہیں کیا ہوتا کیونکہ میرے بیشتر ماتحت اب اپنے مسائل میرے پاس لانے کی بجائے خود ہی حل کرنا چاہتے ہیں جو بذات خود درد سر بن سکتا ہے۔

مثال کے طور پر اکبر میرے عملے کا ایک انتہائی محنتی اور ذہین شخص ہے‘ وہ اتنا پُراعتماد ہے کہ میرے بغیر ہی کسی بیمار منصوبے کی صحت یابی تک اس کی زبردست تیمارداری کرتا ہے۔

اس طرح کی خود اعتمادی قابلِ تعریف ہے بشرطیکہ یہ اپنی آخری حدوں کو نہ چھونے مگر اکبر آخری حدوں کو چھونے لگتا ہے۔ جب تک کسی “غریب” منصوبے کی جان کو شدید خطرہ لاحق نہ ہو جائے وہ مجھے اتنا بھی نہیں بتاتا کہ منصوبے کے “پیٹ میں مٹرور اُٹھ رہے ہیں ہے چہ جائیکہ وہ مجھ سے مدد طلب کرے‘ پھر میرا دفتر ایک ایمر جنسی روم کا منظر پیش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے میں مجھے تمام کام چھوڑ چھاڑ کر اس بحران سے نپٹنا پڑتا ہے۔ با الفاظ دیگر ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے جیسے اپنڈکس نکالتے ہوئے پھٹ گئی ہو اور کیس پیچیدہ ہو گیا ہو۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ مجھے اس بارے میں بروقت مطلع نہیں کیا گیا ہوتا۔ شروع شروع میں جب مجھے یہ مسائل حل کرنے کا زیادہ تجربہ نہیں تھا تو اس قسم کا مسئلہ پیدا ہونے پر میں اکبر سے ناراضی کا اظہار کرتا‘ اسے منصوبے کی صحت کے بارے ایک طویل لیکچر دیتا اور اسے باور کراتا کہ کس طرح اس نے الٹی سیدھی حرکتوں سے صورت حال کو ابتر بنا ڈالا ہے لیکن اب میں نے دو ایسے طریقے سیکھ لئے ہیں جن کی مدد سے میں بیک وقت نہ صرف بحرانوں سے نمٹ سکتا ہوں بلکہ منصوبوں کے بارے میں اپنی تشویش بھی ظاہر کر سکتا ہوں۔

ایک طریقہ تو یہ ہے کہ میں اپنے عملے سے ایسا تال میل پیدا کرتا ہوں کہ جہاں تک ممکن وہ احسن طریقے سے اپنے بندمنصوبوںکی بیماریوں سے خود ہی نمٹ لیں تاہم اگر صورت حال جوں کی توں رہتی ہے یا خطرناک ہونے لگتی ہے اور علاج کے باوجود کسی بہتری کے آثار پیدا نہیں ہوتے تو پھر زندگی کی علامات ختم ہونے سے پہلے ہی منصوبے کو معائینے کے لئے دفتر میں لایا جائے تاکہ میں بھی اس کے علاج میں شریک ہو سکوں۔