!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط12

ڈاکٹر صداقت علی

اب جب کہ آپ کو کچھ اندازہ ہو گیا ہوگا کہ ذمہ داریوں کو ان کے صحیح مالکان کے حوالے کرنے کے لئے کس قسم کا ڈسپلن چاہیے‘ میں چاہوں گا کہ آپ کو کچھ ایسے تجربات سے آگاہ کروں جن سے آپ کو کام کاج میں نظم و ضبط کے دوسرے قانون پر عمل پیرا ہونے میں مدد ملے۔

ان باتوں کو سیکھنے سے پہلے میرے ماتحتوں میں سے ایک مسٹرگوہر نایاب لاجواب ’’پنگافیکٹری‘‘ کی حیثیت رکھتا تھا. جب کبھی وہ مجھے نظر آتا، مین ہال میں کیفیٹیریا میں، لفٹ میں یا پارگنگ لاٹ میں ___ وہ میری طرف لپکتا‘ ہماری گفتگو کا آغاز اس جملے سے ہوا کرتا ’’جناب ہمیں ایک چیلنج درپیش ہے‘‘ اور یقینی طور پر میں آگے بڑھ کر وہ پنگالے لیا کر تا تھا، حالانکہ وہ میرے کرنے کا کا م نہیں ہو تا تھا۔ یہ کا م اس کے اپنے فرائض منصبی سے تعلق رکھتا تھا۔ اب میں یہ سیکھ چکا ہوں کہ گوہر نایاب کے پنگوں کی نگہداشت اور ’’سیوا‘‘ سے کیسے بچنا ہے؟ میں نے بچائو کا ایک ایسا ردِعمل بنایا ہے جو دورانِ گفتگو لفظ ’’ہم‘‘ آتے ہی متحرک ہو جاتا ہے۔ جب بھی میں یہ جملہ سنتا ہوں کہ ’’ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے‘‘ تو چشم تصور میں مجھے ایک ایسا بندر دکھائی دیتا ہے جس کی ایک ٹانگ میرے کندھے پر ہوتی ہے اور دوسری گوہر نایاب کے کندھے پر۔ بندر کی اس پوزیشن سے مجھے خوف محسوس ہونے لگتا ہے کہ کہیں یہ بندر دونوں ٹانگیں میرے کندھوں پر نہ جما دے اور اس طرح میں کسی اورکی ذمہ داری نہ اٹھا لوں‘ یہ تصوراتی خاکہ خود بخود میرے اعصابی نظام میں جوابی تحریک پیدا کردیتا ہے اور میں پنگا لینے سے بچ جا تا ہوں ۔

میں گوہر نایاب سے کہتا ہوں’’ ہمیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے اور نہ ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے‘مجھے یقین ہے کہ مسئلہ تو ضرور ہے لیکن یہ ہمارا نہیں‘یہ تمہارا ہے یا پھر میرا‘ ہمارا سب سے پہلا فرض ہے کہ اپنی گفتگو میں انشاء پردازی کی طرف توجہ دیں اور یہ معلوم کریں کہ یہ مسئلہ کس کا ہے؟ اگر یہ مسئلہ میرا ثابت ہوتا ہے تو مجھے امید ہے کہ تم اس میں میری مدد کرو گے ‘اگر یہ تمہارا مسئلہ نکلتا ہے تو پھر میں تمہاری مدد مندرجہ ذیل شرط پر کرنے کو تیار ہوں: تمہاری مدد کرتے ہوئے کسی بھی لمحے تمہارا مسئلہ میرا مسئلہ نہیں بننا چاہیے کیونکہ جونہی تمہارا مسئلہ میرا مسئلہ بنے گا تو تمہیں مسئلہ درپیش نہیں ہوگا اور میں ایسے شخص کی مدد نہیں کر سکتا جسے کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو۔ جتنی دیر میں میں اپنی مختصر سی تقریر ختم کرتا ہوں تو وہ سَر پیٹ کر رہ جاتا ہے کہ آخر اسے یہ مسئلہ مجھ تک لانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ وہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ میری رام لیلہ سننے سے کہیں بہتر ہوگا کہ وہ خود ہی یہ مسئلہ حل کر لے‘تاہم جب وہ اس ابتدائی جھٹکے کے اثرات سے نکلتا ہے تو ہم اس مسئلے کو زیر بحث لاتے ہیں۔ پھر ہم ’’اگلے قدموں‘‘ پر اتفاق کرتے ہیں‘ یہ اقدام جس حد تک ممکن ہو میں اسے دے دیتا ہوں اور جو جائز طور پر میرے حصے میں آئیں انہیں میں اپنے پاس رکھتا ہوں۔

اس عمل سے ’’پنگوں کی فیکٹری‘‘ یعنی گوہر نایاب کو پتا چل گیا کہ مسئلہ کسی ایک شخص کی ہی ملکیت ہو سکتا ہے اور جب تک حالات اس کے برعکس ثابت نہ کردیںا کوئی دوسرا آگے بڑھ کر پنگا نہ لے لے‘مسئلہ خود اس کی ملکیت رہتا ہے اور اگر کوئی اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتو یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے دوسرا کوئی اور کون ہے جس کی یہ ذمہ داری ہوسکتی ہے۔ اگر یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری میں اٹھاتا ہوں تو پھر یہ ایک اور پنگا لینے کے مترادف ہوگا۔ یو ں جب تک اس کی ملکیت کا تعین نہیں ہو جاتا یہ بندر گوہر نایاب کی پُشت پر ہی قیام کرتا ہے‘مجھ پر کاٹھی نہیں ڈالتا۔

اگر گوہر نایاب مجھے قائل کرلے کہ یہ میری ذمہ داری ہے تو میں انتہائی سکون سے آگے بڑھ کر اسے اٹھا لیتا ہوں اور اگر یہ اس کی ذمہ داری ثابت ہو جائے تو پھر مجھے پنگا لینے کی زحمت نہیں کرنا پڑتی کیونکہ یہ ذمہ داری میرے پاس ہوتی ہی نہیں۔۔یہ ہوتی ہی اس کے پاس ہے۔

آج کل وہ مشہور جملہ ’’ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے‘‘ہمارے دفتر میں کم ہی سننے کو ملتا ہے۔ ایک دو موقعوں پر میری طرف سے تھوڑی سی سست روی نے مجھے ذمہ داریوں کو ان کے جائز مالکان کے پاس رکھنے کا انتہائی قیمتی سبق سکھایا ہے۔ ہوا یوں کہ میرے عملے میں موجود ایک لڑکی لبنٰی میرے پاس آئی اور کہنے لگی’’جناب مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے‘‘ میں نے جواب دیا ’’ایک مسئلہ؟ رخ روشن دیکھو‘ مسئلہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ‘صرف کو نادر مو قع ہو تا ہے‘‘ اس نے جواب دیا  ’’ایسی صورت میں میرے پاس بیش بہا موقع موجود ہے، ایک زور دار قہقہہ لگانے کے بعد میں نے اس سے پوچھا ’’آخر کیا ماجرا ہے؟‘‘
لبنٰی نے اپنا مسئلہ بیان کیا لیکن اس نے اس مسئلے کا کوئی حل پیش نہ کیا‘ وہ بس خاموشی سے بت بنی کھڑی رہی۔ میرا خیال ہے کہ وہ سوچ رہی تھی کہ میںا سے بتائوںکہ اسے کیا کرنا چاہیے؟ اس وقت پنگے بازی کو نظم و ضبط میں لانے کے علم میں میں اتنا کورا تھا کہ مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ میں اسے کیا کہوں یا کیا کروں؟ پس میں وہیں خاموش کھڑا رہا اور سوچتا رہا کہ کیا کروں؟ خاموشی کا یہ دورانیہ طویل ہونے لگا تو مجھے بے چینی محسوس ہونے لگی‘ مجھے معلوم نہیں کہ اس دوران لبنٰی کیا سوچ رہی تھی لیکن آخر کار اسی نے سکوت توڑا اور کہنے لگی ’’کیوں نہ اس مسئلے پر میں خود ہی کچھ مزید غور کر لوں‘ مجھے یقین ہے کہ میں اس کا کوئی نہ کوئی حل نکال ہی لوں گی۔‘‘

بے چین کر دینے والی خاموشی نے لبنٰی کو اپنا مسئلہ سمجھنے، پہچاننے‘ اپنانے اور تیزی سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اگرچہ یہ تکنیک میں نے حادثاتی طور پر سیکھی تھی تاہم میں نے اسے انتہائی موثر طور پر کچھ دوسرے موقعوں پر بھی استعمال کیا‘میں نے اس سے ملتے جلتے کچھ اور طریقے اور انداز بھی استعمال کیے ہیں۔ خاموشی کے علاوہ کئی کپ چائے یا کافی پینے پلانے کے بعد مثانے بھر جانے سے بھی وہ بے چینی پیدا ہو سکتی ہے جس سے گھبرا کر کوئی بھی شخص اپنے مسئلے پر جھپٹتا ہے اور دوڑ لگا دیتا ہے یا پھر میٹنگ کو غیر معمولی طوالت دے کر بھی یہی نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ایسے میں مجھے ایک مشہور شخص کی کہانی یاد آ رہی ہے جس نے اپنے ماتحتوں میں سے ایک کی ادھوری تجویزوں پر مبنی اوپر کی طرف لپکنے والے بندروں سے چھٹکارا پایا تھا۔ اس شخص پر قریباً ہر حربہ ناکام ثابت ہوا تھا۔پس مینجر نے اس کا جھٹکا کرنے کا فیصلہ کیا‘ جونہی اگلی مرتبہ اس شخص سے نامکمل تجویز موصول ہوئی اس نے اسی وقت لوٹا دی اور ساتھ ہی ایک پرچی بھی نتھی کردی جس پر لکھا ہوا تھا ’’تم اس سے کہیں بہتر کر سکتے ہو۔ ‘‘ماتحت نے اس تجویز کو بہتر بنایا اور پھر سے بھجوادیا ‘تجویز پھر سے واپس موصول ہوئی اور اس دفعہ بھی اس کے ساتھ ایک پرچی لگی ہوئی تھی جس پر تحریر تھا’’یہ تمہاری بہترین کارکردگی نہیں ہے۔ ایک کوشش اور کرو وہ کہتے ہیں قیصر عباس، شاباش !تم کر سکتے ہو!” ‘‘ایک مرتبہ پھر ماتحت نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا‘ اس دفعہ وہ ذاتی طور پر باس کی خدمت میں حا ضر ہوا اور کہا ’’یہ وہ بہترین معیار ہے جو میں دے سکتا ہوں۔‘‘جس پر اس نے ماتحت کو جواب دیا ’’اچھا !تو اب پھر میں اسے پڑھ لوں گا۔‘‘

یہ سب کچھ تو تھا دوسرے قانون کے بارے میں یعنی ذمہ داریاں ان کے جائز مالکان کو سونپنا‘ اب جب کہ وہ صحیح کندھوں پر پہنچ چکی ہیں توآئیے !طے شدہ اہداف کو تنظیمی گورکھ دھندوں کا سامنا کرنے کے لئے کھلا چھوڑنے سے پہلے ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

پنگوں کو نظم و ضبط میں لانے کا تیسرا قانون کہتا ہے: باس اور ماتحت کے درمیان مکالمہ اس وقت تک اختتام پذیر نہیں ہونا چاہیے جب تک انشورنس کے ذر یعے ہدف کا تحفظ نہ کر لیا جائے۔

یہ قانون آپ کے اسٹاف کو آزادی دیتا ہے کہ وہ اپنے اہداف کیلئے خود سے فیصلے کریں تاہم آپ کے اطمینان اور اعلیٰ نتائج کو ملحوظِ خاطر رکھنا بھی اُن کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔لوگوں کو کام کرنے کی آزادی دے کر آپ اور وہ دونوں فائدے میں رہتے ہیں‘ آپ کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ ان کی نگرانی میں کم وقت اور طاقت خرچ کرنا پڑتی ہے اور آپ کے پاس سوچ و بچار کیلئے بہت سا وقت بچ جا تا ہے۔ دریں اثناء جب آپ کے ماتحت آزادی سے اپنی ذات کو منظم کرتے ہیں تو اس سے انہیں بھی کئی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیںجیسے کہ زیادہ تسلیتوانائیجوش و جذبہ زیادہ ہوتا رہتا ہے۔

لیکن ہر فائدے کی کوئی قیمت بھی ہوتی ہے‘ لوگوں کو زیادہ آزادی دینے میں کچھ خطرات بھی پنہاں ہوتے ہیں یعنی جب لوگوں کو زیادہ اختیارات ملتے ہیں تو وہ غلطیاں بھی زیادہ کرتے ہیں۔ اہداف کی انشورنس کا مقصد یہ ہے کہ ماتحت صرف وہی غلطیاں کریں جنہیں برداشت کیا جاسکے‘ یہی وجہ ہے کہ تمام اہداف کو مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک انشورنس پالیسی کے تحت تحفظ دیا جانا چایئے:

-تجویز کی منظوری کے بعد عمل کریں
-عمل کرنے کے بعد با خبر کریں

پالیسی 1‘ تجویز کی منظوری کے بعد عمل کریں‘ ایسے موقعوں پر تحفظ مہیا کرتی ہے جہاں ماتحتوں کو شتربے مہار کی طرح چھوڑدینے سے ایسی غلطی کا کافی خدشہ ہوجس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔ ایسی صورتوں میں جہاں مجھے احتمال ہو کہ میرے عملے کے افراد لٹیا ہی ڈبو دیں گے تو میں چاہتا ہوں کہ ایسا ہونے سے پہلے ہی اپنے حتمی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے میںمجوزہ اقدام کو مسترد کر دوں۔ایسی بے چینیاں خاص طور پر ان اہم معاملات سے منسلک ہوتی ہیں جنہیں اگر بگڑنے دیا جائے تو میں نااہلی کا مظاہرہ کرنے والے کونکال باہر نہ کر سکوں گا کیونکہ اس سے پہلے خود میری چھٹی ہو چکی ہوگی ۔

ایسے معاملات میں میری خواہش ہوتی ہے کہ میرے عملے کے متعلقہ افراد تجاویز مرتب کریں اور میرے باضابطہ طور پر منظور کرنے کے بعد ہی ان پر عمل پیرا ہوں‘ اس سے ہمیں تحفظ مل جاتا ہے تاہم اس سے میرا وقت خرچ ہوتا ہے اور متعلقہ افراد کی خود مختاری متاثر ہوتی ہے۔

پالیسی 2‘ عمل کرنے کے بعد باخبرکریں‘ ایسے اہداف کے بارے میں ہے جن کے متعلق مجھے یقین ہے کہ میرے ماتحت انہیں کامیابی سے سنبھال سکتے ہیں‘ وہ ان معاملات کو طے کرنے کے لئے مکمل طور پر آزاد ہیں اور کام مکمل کرنے کے بعد وہ جب بھی مناسب سمجھیں مجھے مطلع کر سکتے ہیں‘اس سے انہیں اپنے جوہر دکھانے کے وسیع مواقع ملتے ہیں اور میرا خاصا قیمتی وقت بچ رہتا ہے۔اس میں بہرحال یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھا لیں جس سے دودھ اُبل کر کیتلی سے باہر آجائے اور مجھے بہت بعد میں اس وقت پتا چلے جب میرے لئے دودھ کو سمیٹنا ممکن نہ ہو اور اگر میں کسی نہ کسی طرح دودھ سمیٹ ہی لوں تو وہ گدلا ، میلا اور نا قابلِ استعمال ہوچکا ہو۔

موقع کی مناسبت سے انشورنس پالیسی کا انتخاب کون کرتا ہے؟ اگرچہ بطور مینجر مجھے ہی حتمی پالیسی کی منظوری دینی چاہیے تاہم کوئی بھی فریق حالات کی مناسبت سے پہل کر سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ انتخاب میں کرتا ہوں‘ خاص طور پر جب مجھے پالیسی کے حوالے سے تحفظ درکار ہو۔ جب میں پالیسی ۱ کا انتخاب کرتا ہوں تو کئی دفعہ میرے افراد مجھ سے شاکی رہتے ہیں کیونکہ اس سے ان کی آزادی پرچوٹ پڑتی ہے لیکن جہاں ان کے اپنے طور پر پالیسی ۲پر عمل پیرا رہنے سے یہ خطرہ ہو کہ ناقابلِ تلافی نقصان ہو جائے گا اور میں اعتراض نہ کروں تو یہ بطور باس میری طرف سے ذمہ داریوں سے فرار ہوگا۔

یقینا نہ تو ایسا ممکن ہے اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ میں اپنے افراد کو پیشگی ہر قدم پر پالیسی کے انتخاب پر رہنمائی دوں۔ پس بیشتر مواقع پر وہ خود پالیسی منتخب کرنے کا ذمہ لے لیتے ہیںگو اس میں رسک بھی ہوتا ہے تاہم انہیں اعتماد ہوتا ہے کہ ان کی منتخب کردہ پالیسی آخر کارمجھے مطمئن کر دے گی۔ وہ پالیسی نمبر ۲ پر صرف اس صورت میں عمل پیرا ہوتے ہیں جب انہیں بھروسہ ہوتا ہے کہ اگر وہ اس پر عملدرآمد کے بعد مجھے مطلع کریں گے تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا بصورت دیگر وہ مجھے اپنی سفارشات پیشگی پہنچا دیتے ہیں اور باہمی اتفاق رائے کے بعد طے شدہ کام کر گزرتے ہیں (پالیسی ۱)۔اگر میں ان کی مجوزہ پالیسی سے متفق نہ ہوں تو میں یہ اختیار رکھتا ہوں کہ اسے بدل ڈالوں‘ میرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جس حد تک ممکن ہوانتظامی امُور دوسروں کے ہاتھ میں دیئے جائیں اور جس حد تک ضروری ہوانتظامی امُور اپنے ہاتھ میں رکھے جائیں۔