!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط11

ڈاکٹر صداقت علی

ماضی پر ایک گہری نظر مجھ پر یہ بات واضح کرتی ہے کہ کئی فطری وجوہ کی بنا پر بندر اوپر کی طرف ہی لپکتے ہیں۔ میرے معاملے میں یہ میری اپنی نفسیاتی کمزوریاں تھیں جو کسی مقناطیس کی طرح ذمہ داریوں کو اوپر جانب کھینچ رہی تھیں جیسے کیلے کے درخت میں کیلے اوپر کو کھنچے چلے آتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ میں راہنمائی کی نسبت اپنے عملے کا کام خود کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔ آخرباس بننے سے پہلے میں اسی نوعیت کا کام تو کیا کرتا تھا اور میں اس کام میں مہارت رکھتا تھا‘ میری ترقی کی وجہ بھی یہی تھی- پس ان کا کام کرنے سے میں ان دشوار کاموں سے بچ جاتا تھا جو انتظامی امور کا خاصہ ہیں (اس عمل کو اکثر بوڑھے طوطوں کی بیماری بھی کہا جاتا ہے)؛ علاوہ ازیں جب میں ماتحتوں کا کام کرتا تھا تو میرے عملے کے افراد کو موقع ملتا تھا کہ ’’خلیفہ جی کو خود اکھاڑے میں دائو پیچ آزماتے ہوئے دیکھیں اور واہ واہ کریں۔

تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر مجھے اپنے ماتحتوں کے کام پکڑنے کی تمام وجوہ کا علم ہوتا‘ پھر بھی میرا خیال ہے کہ میں اس وقت انہیں تسلیم نہ کرتا۔ مجھے اب احساس ہوتا ہے کہ پنگے لینے کے لئے میں نے بے شمار جواز گھڑ رکھے تھے (جو کہ بظاہر ذہانت کے معیار پر زبردست نظر آتے تھے اور میری انا کو تسکین پہنچاتے تھے تاہم جو کام میں کرتا تھا ان کا میرے فرائض منصبی سے دور پار کا تعلق بھی نہیں ہوتا تھا)- کیا آپ نے مندرجہ ذیل جملوں میں سے کوئی سنا ہے؟ ’’اگر آپ اسے صحیح طرح کرنا چاہتے ہیں تو پھر اسے خود کریں‘‘۔ ’’میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اس مسلےمیں میرا دخل رہے۔‘‘ دوسروں کو کام تفویض کرنے کی بجائے خود کام کرنا آسان ہے۔‘‘ میں اپنے لوگوں کو وہ کام نہیں کہہ سکتا جو میں خود نہیں کر نا چاہتا۔

ذمہ داریوں کو غلط مالکان تک صرف اندرونی نفسیاتی کمزوریاں ہی نہیں پہنچاتیں بلکہ اداروں کی پالیسیاں بھی اس کا باعث بنتی ہیں‘ مثال کے طور پر بعض کمپنیوں کا نکتہ نظر یہ ہے کہ اگر معیار کی ذمہ داری مصنوعات بنانے والوں سے چھین کر معائنہ کرنے والوں کو دے دی جائے تو یہ غلط ہوگا؛ ان کا کہنا ہے کہ اشیاء کا جو معیار اس طرح حاصل کیا جاتاہے وہ بھی نقائص سے پاک نہیں ہوتا۔ اگر اس نوع کے نفسیاتی اور تنظیمی اثرات کو مدِنظر رکھا جائے تو یہی بات عیاں ہوتی ہے کہ ذمہ داریوں کو ان کے صحیح مالکان تک پہنچانے کے لئے ہنر اور نظم و ضبط کا امتزاج انتہائی ضروری ہے‘ خاص طور پر نظم و ضبط کا، کیونکہ نظم و ضبط کے بغیر ہنر فضول ہے۔ ایسا نہ کرنے سے ہصرف پنگے بازی کو ہی فروغ ملتا ہے۔

مینجمنٹ کے اس مبینہ تضاد پر قابو پانے کے لئے زبردست نظم و ضبط کی ضرورت ہوتی ہے۔بعض اوقات جب آپ اپنے لوگوں سے بہترین نتائج کا تقاضہ کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو کچھ مدافعت کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ بہترین نتائج کے لئے زبردست محنت اور مہارت ضروری ہے یعنی ہارڈ ورک اور سمارٹ ورک دونوں ایک ساتھ- دوسری طرف اگر آپ اپنے ماتحتوں سے ذرا کم معیار پر سمجھوتہ کر لیں تو بعض اوقات وہ زیادہ مدافعت نہیں کرتے۔ پس بعض اوقات ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ کم معیار کا کام کرنے کے ہی اہل ہیں۔ اس کھلے تضاد کے پس پردہ محرکات ذمہ داریوں کو ان کے اصل مالکان کے سپرد کرنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ ذمہ دارسے نپٹنے اور اسے ذمہ داری کو سنبھالنے پر مجبور کرنے کے بجائے بعض اوقات پنگا لے کر مسئلہ حل کرنا بدر جہاں آسان نظر آتا ہے لیکن ہوشیار رہئیے‘ جیسا کہ عظیم مینجروں اور رہنمائوں نے ہمیں سکھایا ہے یہ آسانی صرف ایک سراب ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں‘ ذمہ داریوں کو ان کے جائز مالکان کے پاس ہی ہونا چاہیے۔ پنگا نہیں لینے کا سر جی۔

ہر دلعزیز راہنما یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ بظاہر مدافعت کے باوجود لوگ آخر کار ان کی دل سے قدر کرتے ہیں‘ حتٰی کہ ان سے محبت کرنے لگتے ہیں‘ بشرطیکہ وہ ان کی بہترین صلاحتیں ابھارنے میں مدد کریں۔ اپنے اس نظرئیے کو مضبوط بنانے کے لئے ذرا پلٹ کر اپنے سکول کے زمانے کو یاد کیجئے‘ آپ انتہائی عقیدت کے ساتھ کن اساتذہ کو یاد کرتے ہیں؟ میں تو انہیں یاد رکھتا ہوں جو مجھے اپنی پوری صلاحتیں استعمال کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ اور کیا میں ان لوگوں کی طرف سے پیدا شدہ دبائو کو رد کرنے کی کوششیں کرتا تھا؟ بعض اوقات تو میرا خیال ہے کہ میں ان سے نفرت کرنے لگتا (میرا خیال ہے کہ کئی دفعہ تو میں ان کے مرنے کی دعائیں بھی مانگتا تھا)۔

لیکن بہرحال میں ان کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرتا تھا کیونکہ اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ ان کے دل میں صرف میری بھلائی ہے‘ ان میں سے بعض کو تو میں اب یاد بھی نہیں ہو ںگا لیکن بہرحال میں دل کی دل میں ان کی عزت بہت بڑھ چڑھ کر کرتاہوں؛ سچ تو یہ ہے کہ بعض اوقات میں ان لوگوں کے لئے اپنے دل میں رنج محسوس کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اپنی زندگی کا ایک حصہ ضائع کرنے دیا خواہ ایسا میری اپنی ہی غلطی سے ہوا۔

میں اپنے آپ سے اور اپنے ماتحتوں سے زبردست کارکردگی کا خواہاں ہوں۔ خاص طور پر جب میں انہیں اہلیت کی آخری حدوں تک لے جانا چاہتا ہوں تو مجھے مدافعت کا سامنا کرنا پرتا ہے‘ ایسے میں میں اپنے ماتحتوں کی ’’داد فریاد‘‘ سنتا ہوں لیکن ان موقعوں پر ذہن میں اپنے اساتذہ اورکچھ جانے پہچانے عظیم مینجروں کی مثالیں ضرور یاد رکھتا ہوں۔ جب ماتحت مدافعت کرتے ہیں تو مجھے اس کسان کی کہانی یاد آتی ہے جس کو اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر انتہائی محنت کرتے دیکھ کر پڑوسی نے پوچھا تھا کہ تم اپنے بیٹوں کو محض مکئی کی افزائش کے لئے کیوں ہلکان کر رہے ہو؟ تو اس نے جواب دیا تھا کہ میں مکئی کی افزائش نہیں کر رہا‘ میں تو بیٹوں کی افزائش کررہا ہوں‘ یادرکھیں۔

لوگوں کو ذمہ دار بنانے کا صرف ایک طریقہ ہے‘ انہیں ذمہ داریاں دے دیں۔