!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط10

بہتر ہے کہ پنگا نہ لینے کے پہلے اصول کو آپ پر واضح کرنے کے لئے میں دو ایک مثالیں اپنے ذاتی تجربے سے دوں۔ مثال کے طور پر ذرا پنگے کی تعریف کو دوہرائیے: پنگا اُس کام کو کہتے ہیں جو آپ کے کرنے کا نہیں تھا لیکن آپ نے کرنے کا ارادہ یا وعدہ کر لیا۔

یہ تعریف پنگے کی ملکیت کے بارے میں کچھ نہیں کہتی‘ سو عین ممکن ہے ایک شخص پورے منصوبے پر کام کر رہا ہو اور دوسرا شخص محض اگلا قدم اٹھائے۔ میں اکثر اس حقیقت سے اس طرح فائدہ اٹھاتا ہوں کہ میں اپنے عملے کے ارکان سے پوچھتا ہوں کہ اپنے مختلف منصوبوں پر میں کون سے اگلے اقدام اٹھائوں؟ اس سے ان کو ایک ’’اگلا قدم‘‘ اٹھانے کا موقع ملتا ہے، چاہے وہ میرے منصوبے کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک تجویز پر ہی مبنی کیوں نہ ہو۔

مشترکہ جدوجہد سے نہ صرف یہ کہ میرے اگلے قدم کا معیار بہتر ہوتا ہے بلکہ ایک سے بھلے دو‘ ایک ایک اور دو گیارہ! اس سے میرے عملے کے افراد کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور انہیں میری مشکلات کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں مجھے اپنے جانشین تیار کرنے میں بھی مدد ملتی ہے (اگر میں ترقی کا خواہاں ہوں تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے)۔

قانون 1 کی دوسری مثال اس وقت سامنے آتی ہے جب میں اور میرا کوئی ساتھی کسی مسئلے پر بحث کر رہے ہوں اور ہم ابھی مسئلے کو وضاحت سے بیان کر پائے ہوں نہ اگلے قدم طے کیے ہوں اور وقت ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو۔ وقت کی کمی کا دوسرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگلا قدم اب یہ ہے کہ پنگاہ ہر گز نہ لیا جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تک اس مسئلے پر دوبارہ تبادلہ خیالات شروع نہیں ہوتا تب تک اس مسئلے کی ذمہ داری کس پر رہے؟ پس میں اس شخص سے کہتا ہوں ’’کیوں نہ ہم اس مسئلے کا حل نکالنے کیلئے کل پھر سے بات چیت کا آغاز کریں‘ دریں اثناء آپ اس مسئلے پر غور جاری رکھیں‘ ہو سکتا ہے آپ ہی اس مسئلے کا کوئی حل نکال لیں…. اور مجھے یقین ہے کہ آپ ضرور ایسا کر گزریں گے۔

ان اگلے دو دنوں میں غالباً میں اس مسئلے کا کچھ بھی نہ کر پاتا اور یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ میرے عملے کا مذکورہ فرد بھی شاید اس پر کوئی کار گزاری نہ دکھائے لیکن اگر اس مسئلے کی قسمت میں خرابی ہی لکھی ہے کہ یہ خرابی میری بجائے اس کے بریف کیس میں واقع ہو‘ کیوں؟ اس لئے کہ بریف کیس میں بہت اندھیرا ہوتا ہے اور جو مسئلہ ایک پھڈے کی شکل اختیار کر جائے اُسے یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کس کے بریف کیس میں ہے؟

اور یہ بات بھی ہے کہ اگر پھڈا میرے ماتحت کے بریف کیس میں ہے تو یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو ہو جائے گا اور اگر یہ ’’کچھ‘‘ نہ ہونے کے برابر ہو تو یہ اس سے بدر جہا بہتر ہے کہ اس اثناء میں وہ میرے بریف کیس میں ہوتا جبکہ میں بھی اس دوران کچھ نہ کرتا۔ مزید برآں اگر ماتحت اس کام کو غلط طریقے سے کر دے تو اس سے بھی سبق سیکھا جا سکتا ہے کیونکہ کسی بھی کام کو غلط کرنے کے چند ہی غلط طریقے ہوتے ہیں اور آپ کا ماتحت ان میں ایک طریقہ پہلے ہی آزما کر رد کر چکا ہے۔

اب ہم اگلے قدم کی قدروقیمت واضح کرنے کے لئے ایک آخری مثال پر نظر ڈالتے ہیں۔ فرض کریں کہ آپ اپنے عملے کے کسی شخص سے کسی مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں اور آپ دونوں کے درمیان مکالمے کا اختتام اس طرح ہوتا ہے کہ آپ اس سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے مشورہ مانگتے ہیں اور آپ کا ماتحت آپ سے مہلت مانگتا ہے، آپ انتہائی کرم کے ساتھ مہلت دیتے ہیں اور میٹنگ ختم ہوجاتی ہے۔ جب آپ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں تو آپ زیر لب مسکراتے ہیں کیونکہ اب اگلا قدم اسے اٹھانا ہے جو ایک تجویز کی تشکیل ہوسکتا ہے لیکن اس وقت آپ کی خوشی ہوا ہو جاتی ہے جب نو صفحات پر مشتمل ایک تجویز آپ کی میز پر پہنچتی ہے۔ اب کچھ عدد اگلے قدم آپ کے حصے میں آگئے‘ یعنی اسے پڑھنا‘ اس پر غور کرنا، فیصلہ کرنا کہ کیا کیا جائے اور پھر اس فیصلے پر عمل درآمد وغیرہ وغیرہ۔ اب کارکن کا کِردار آپ کے حصے میں آ گیا اور نگران کا کِردار اس کے حصے میں۔

اس سارے پس منظر کا تصور کرتے ہوئے آپ سمجھ سکتے ہیں مسئلوں کو سلجھانے اور پنگے نہ لینے کے اس دھندے میں شطرنج کی طرح آگے کی کئی چالیں سوچ رکھنا بھی نفع بخش ثابت ہوتا ہے۔ میں نے پنگوں سے بچنے کا ایک اور طریقہ بھی نکالا ہے۔ میں اپنے افراد سے کہتا ہوں وہ مجھے یادداشتیں ارسال کرنے کی بجائے انہیں خود میرے پاس لے آیا کریں‘ کیوں؟

اس طرح جب کوئی شخص یادداشت لئے میرے دفتر آتا ہے تو میں اسے کہتا ہوں کہ وہ مجھے پڑھ کر سنائے (ان میں سے بیشتر مجھے بتاتے ہیں کہ جتنا وقت اس یاداشت کو پڑھنے میں لگے گا اس سے ایک تہائی وقت میں وہ یہ مجھے زبانی سمجھا سکتے ہیں۔ اس طرح مجھے یہ اطمینان اور خوشی مل جاتی ہے کہ چلو میں نے بقیہ دو تہائی وقت تو بچا لیا۔

خواہ وہ مجھے پڑھ کر سنائیں یا زبانی بتائیں اس دوران مجھے اتنا وقت مل جاتا ہے کہ میں کچھ سوچ بچار کرسکوں‘ ان کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لے سکوں اور ان سے سوالات پوچھ سکوں۔ اسے تنہائی میں پڑھنے کی نسبت‘ اس طرح میں معاملے کو تھوڑے وقت میں زیادہ سمجھ لیتا ہوں کیونکہ یادداشت بہرحال الفاظ پرمشتمل ہوتی ہے اور اس کے کسی بھی لفظ سے غلط مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں کاغذ پر لکھی ہوئی تحریر میں تمام مدعا نہیں ہوتا اور جب مدعی میرے سامنے موجود ہو تو تحریر کے پیچھے چھپے ہوئے خیالات کے بارے میں وہ میرے کسی بھی ممکنہ سوال کا جواب دے سکتا ہے۔اور مدعی لاکھ برا چاہے تو بھی کوئی بہت زیادہ برا نہیں چاہ سکتا۔

قانون 1 کو نافذ کرنے کے بے شمار طریقے ہیں لیکن مجھے یقین ہے اب تک آپ اصل ’’کُنڈھی‘‘ سمجھ چکے ہوں گے چنانچہ‘ آئیے! ہم اگلے قانون کی طرف چلتے ہیں جس کا مقصد پنگوں کو ان کے اصل مالکان کے سپرد کرنا ہے۔

کام کاج کو نظم و ضبط میں لانے کا قانون 2 کہتا ہے: باس اور ماتحت کے درمیان سلسلہ کلام اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک مسئلہ یا اگلا قدم کسی ایک کی ملکیت میں نہ آ جائے۔ اگر مسئلہ یا اگلا قدم غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو وہ پنگا بن جا تا ہے۔

یہ اصول ہزاروں سال کے تجربے کی عکاسی کرتا ہے کہ انسان اپنی ملکیتی اشیاء کو زیادہ حفاظت سے رکھتا ہے‘ مزید برآں اگر مسئلے یا اگلے قدم کی ملکیت طے نہ ہو تو پھر کوئی بھی صحیح معنوں میں اس کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ہوتا اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بعد میں کسی کو بھی مورودِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

پس ادارے کے قابل قدر منصوبوں کی فلاح و بہبود کیلئے ضروری ہے کہ کوئی نہ کوئی ان کا مالک ضرور ہو‘ یہی وجہ ہے کہ جب میں اور میرے عملے کے افراد کام کے حوالے سے تبادلہ خیالات کر رہے ہوں تو اس دوران جنم لینے والا ہر اگلا قدم یا منصوبہ گفتگو کے اختتام سے پہلے کسی نہ کسی کے سپرد ہو جانا ضروری ہے۔

لیکن کون سی ذمہ داری کس کے پاس جانا چاہیے؟ میں نے یہ سیکھا ہے کہ

ہر ذمہ داری سے ممکنہ حد تک ادارے میں نچلی سطح پر نپٹنا چاہیے بشرطیکہ منصوبہ کی جزوی یا کلی فلاح و بہبود کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔

ذمہ داریوں کو ادارے کی سب سے نچلی سطح پر دھکیلنے کا مطلب ذمہ داریوں سے فرار ہرگز نہیں۔ کچھ لوگ یہ نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں کہ شاید ذمہ داریوں کو جمعہ کی نماز میں چندے کی چادر کی طرح آگے کھسکایا جا رہا ہے‘ دراصل ایسا کرنے کی بڑی ہی جائز وجوہ ہیں (1) کام کاج کی بہتر بجاآوری کے لئے میرے عملے کے پاس مشترکہ طور پر میری نسبت زیادہ وقت‘ طاقت اور علم ہوتا ہے (تاہم کئی مینجروں کو وہم ہوتا ہے کہ وہ ہر فن مولا اور اپنے عملے سے بڑھ کر ہیں)۔ (2) عملے کے افراد میری نسبت کام کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور اس طرح وہ کام کاج اور کلائینٹس کی دیکھ بھال مجھ سے زیادہ کر سکتے ہیں اور (3) پنگے لینے سے پرہیز ہی واحد لائح عمل ہے جس سے میں اپنا صوابدیدی وقت بچا سکتا ہوں۔

نتیجتاً جب سے مجھ میں یہ تبدیلی واقع ہوئی ہے میں نے ایک خاص وطیرہ اختیار کر لیا ہے۔ میں اپنے پاس صرف وہی ذمہ داری رکھتا ہوں جن کی نگہداشت صرف میں ہی کر سکتا ہوں۔ ۔بقیہ تمام ذمہ داریاں میرے عملے کے حصے میں آتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرا عملہ بھی ایک حد تک ہی ذمہ داریاں اچھی طرح سنبھال سکتا ہے‘ پس میں بھی زیادہ محنت کرتا ہوں تاکہ وہ لوگ اپنے آپ کو زیر بار نہ سمجھنے لگیں (بشرطیکہ وہ لوگ ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے تجاویز دیتے رہیں) تجربہ شاہد ہے کہ میرے عملے کے افراد اپنی توقعات سے زیادہ حتٰی کہ کئی دفعہ تو وہ میری توقعات سے بھی بڑھ کر کارکردگی دکھا دیتے ہیں۔

ان سطور کو پڑھتے وقت اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ذمہ داریوں کو سب سے نچلی سطح پر دھکیلنے کا معاملہ کہنے کی حد تک آسان لیکن عملی طور پر ناکوں چنے چبوانے والا ہے تو میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔ چونکہ میں خود دیوانگی کی حد تک پنگے لینے کا شوقین تھا اور ابھی حال ہی میں سدھرا ہوں اس لئے کسی بھی دوسرے شخص کی طرح میں بھی اس حقیقت سے واقف ہوں کہ کچھ زبردست غیر مرئی طاقتیں پنگے بازی کو پروان چڑھاتی ہیں۔ ماتحتوں کو یہ شوق ہوتا ہے کہ ہر ذمہ داری کے ہاتھ پیلے کر دیں اور وہ ہر کام کا سہرا باس کے سر باندھنے کا خبط رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ہر باس فٹ بال کے کھلاڑی کی طرح بال کو اپنے ہی قدموں میں رکھنا چاہتا ہے تا کہ گول ہونے کی صورت میں ہیرو قرار پائے۔