!پنگا نہیں لینا سر جی

قسط9

ڈاکٹر صداقت علی

پھر میاں عبدالعزیز یوں گویا ہوئے، آپ ہوا کے گھوڑے پر سوار نظر آرہے ہیں، اور سرپٹ بھاگے جارہے ہیں، رکنے کا نام نہیں لے رہے، لیکن لگ رہا کہ آپ ہاتھوں میں باگیں نظر آرہی ہیں اور نا ہی آپ کے پائوں رکاب میں دکھائی دے رہے ہیں۔ جن ایگزیکٹوز کی مرضی کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا وہ عموماً اداروں کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں اور جلد ہی ان کا کوئی نہ کوئی متبادل تلاش کر لیا جاتا ہے۔ لیکن وہ باس جو دوسروں کو کام کرنے کا موقعہ دیں اور کام پر حد سے زیادہ کنٹرول کے خواہش مند نہ ہوں وہ مر بھی جائیں تو انہیں کوئی یاد نہیں کرتا اور ایسے باس جو مر بھی جائیں تو انہیں کوئی یاد نہ کرے ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا‘ وہ انمول ہوتے ہیں۔ کیوں بھلا؟

میری جان میں جان آئی اور میں گہرا سانس لے کر بو لا، ایک منتظم کے طور پر آپ لوگوں سے بہترین کام اسی صورت لے سکتے ہیں جب وہ اپنے کاموں کی دیکھ بھال خود ہی کر رہے ہوں‘ اس طرح آپ کے پاس منصوبہ بندی‘ رابطوں‘ اختراعات‘ نئے عملے کی بھرتی اور اس نوع کے دوسرے اہم کاموں کے لئے وافروقت نکل آتا ہے اس سے آپ کا شعبہ مستقبل میں بھی اہم کارکردگی دکھا سکتا ہے۔

اللہ آپ کا بھلا کرے مجھے امید ہے آپ اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے، میاں عبدالعز یز دھیمے لہجے میں بو لے، دراصل آپ کو اس میں کچھ مزید رہنمائی کی ضرورت ہے جب پھر آپ اس کی ضرورت محسوس کریں تو بتا دیجئےگا میرے دھن بھاگ، آپ ہمیشہ مہربانی فرماتے ہیں، راہنمائی کے علاوہ عمدہ کھانا بھی کھلاتے ہیں آپ نے ماش کی دال بھنڈی اور کریلے کھانے کے بعد انہیں اچھا کھانا کہا تو مجھے بہت خوشی ہوئی، آپ نے پھلوں سبزیوں اور دالوں کے بارے میں جس طرح اپنے نظریات کو بدلا، اس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں، جیتے رہیں، خوش رہیں فون رکھتے ہی اپنے کام میں مگن ہو گیا۔

آپ کے ساتھ مل کر دیکھتے ہیں کہ پیر ہی کے روز ہم ابھی تک نپٹائے جانے والے معاملات کو ایک ترتیب دے لیں۔ چونکہ میں سیمینار میں سیکھے ہوئے قوانین کے تحت لوگوں کو ان کے پنگے لوٹا چکا تھا مناسب ہوگا کہ ہم کاموں کو راہ راست پر رکھنے کے نظام کو دیکھیں، پنگے بازی پر قابو پانے کے پہلے قانون کے مطابق کسی باس اور اس کے ماتحت کے درمیان مکالمہ اس وقت تک ختم نہیں ہونا چاہئے جب تک کہ تمام اقدامات اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچ جائیں، یعنی بندروں کو قابو میں رکھا جائے۔ اس میں شامل ہے کہ آئندہ اقدامات کو واضح طور پر بیان کیا جائے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ بندروں کو کسی کی ملکیت میں دے دیا جائے۔ یہاں بندروں سے مراد وہ چھوٹے بڑے اقدامات ہیں جو اہداف کے حصول کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

تیسرے اصول کے مطابق ان اقدامات کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے انشورنس پالیسی مرتب کر لی جائے جس میں ہر قسم کے خطرے کا سدباب کر لیا جائے۔

اصول نمبر 4 یہ ہے کہ پنگوں کو اپنے انجام تک پہنچانے کیلئے ملاقاتوں کا بندوبست، بندروں کی پیروی کے لئے وقت اور جگہ کا تعین کر لیا جائے۔ مزید برآںپنگوںکو حقیقی اہداف میں بدلنے کے لئے شفافیت کا اہتمام کر لیا جائے۔

پنگوں کو منظم کے قواعد و ضوابط کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنا لیا جائے کہ صحیح کام‘ صحیح وقت پر اور صحیح لوگوں کے ذریعے صحیح طریقے سے انجام پائیں۔

اگر آپ ماضی میں جھانک کر چند ایسی میٹنگز پر نظر دوڑائیں جو مسائل حل کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھیں تو آپ کو بندروں کو منظم کرنے کے لئے یہ قوانین اشد ضروری محسوس ہوں گے۔ ان میں سے بیشتر میٹنگز کا انجام اس طرح ہوا ہوگا کہ کمرے میں موجود کسی بھی شخص نے اس بات پر اتفاق نہیں کیا ہوگا کہ آئندہ اقدامات کیا ہونے چاہیئں اور ان کا ذمہ دارکون ہوگا؟

ایسی میٹنگز میں اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب کسی کو پتا ہی نہ ہو کہ آئندہ اقدام کیا ہوں گے تو پھر یہ اقدام کبھی اُٹھائے ہی نہیں جائیں گے۔ اگر یہ اقدام کسی کے ذمے نہیں لگائے جاتے تو پھر یہ ہر ایک کی ذمہ داری بن جاتے (بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ کسی کی بھی ذمہ داری نہیں بنتے) جس سے کچھ بھی نہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر آئندہ اقدام کسی کے ذمے تولگا دیئے جائیں لیکن تکمیل کا وقت طے نہ کیا جائے تو پھر کام کے التوامیں پڑ جانے کا اندیشہ ہوگا کیونکہ اکثر لوگ پہلے ہی ضروری کاموں میں الجھے ہوتے ہیں۔

پنگے بازی کا تدارک کرنے کے اصول صرف ان بندروں پر لاگو ہوتے ہیں جن کا کوئی نہ کوئی جواز بنتا ہو‘ کچھ پنگے تو بلا جواز ہوتے ہیں، ان کا تو ویسے ہی قصہ پاک کردینا چاہیے، مثال کے طور پر برطانیہ کی سول سروس میں ایک عہدہ ہے جس پر تعینات شخص کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ڈاور کی برف پوش چوٹیوں پر کھڑا رہے اور جونہی اسے نپولین کی فوجیں آتی ہوئی دکھائیں دیں وہ گھنٹیاں بجانی شروع کر دے۔ اس عُہدے پر ابھی تک بھرتی کی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں بھی ایسے بہت سے دفاتر ہیں جن میں کوئی کام دھندہ نہیں ہوتا لیکن وہ دفاتر بند نہیں کئے جاتے، بہت سے ایسے گیسٹ ہاوسز ہیں جہاں اب کوئی صاحب بہادر قیام نہیں کرتا لیکن اُن کا انتظام و انصرام جاری و ساری ہے۔ یہ سب کام دھاندے اور اقدام بندروں کے زمرے میں آتے ہیں۔ پس آپ اپنے آپ سے پوچھیں ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اگر کوئی معقول جواب نہ ملے تو اسے نیست و نابود کردیں۔ جن کاموں کو کرنے کی سرے سے کوئی ضرورت نہیں آپ دھڑا دھڑ وہی کام کیوں کرتے رہیں؟

پنگوں کو منظم کرنے کے قوانین کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے یہ مناسب ہوگا کہ پہلے ہم بندر کی تعریف کو ذہن نشین کر لیں‘ یاد رہے کہ بندر کسی مسئلے یا منصوبے کو نہیں کہتے بلکہ بندر کسی منصوبے میں اگلے قدم کو کہتے ہیں جو کسی اور کے اُٹھانے کا ہو اور اسے اُٹھا کوئی اور رہا ہو۔ جو قدم اُٹھانے کی ضرورت ہی نہ ہو، اُس سے بڑا پنگا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ بندروں کی کچھ مثالیں یہ ہو سکتی ہیں:اکائونٹ کے شعبے سے حتمی قیمتوں کی تفصیلات وصول کرنا‘ مسئلے پر مزید غور کرنا‘ سفارش مرتب کرنا اور سمجھوتے پر دستخط کرناوغیرہ وغیرہ۔

پنگوں کا قلع قمع کا قانون 1 کہتا ہے
باس اور ماتحت کو اس وقت تک ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونا چاہئے جب تک اگلے اقدام نہ طے کر لئے جائیں۔

.اس قانون سے وابستہ رہنے کے تین فوائد ہیں
اول: اگر میرے ملازمین کو پیشگی اس بات کا علم ہو کہ ان کے اور میرے درمیان گفتگو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک “اگلے اقدام” نہ طے پا جائیں تو وہ ملاقات سے پہلے زیادہ احتیاط سے منصوبہ بندی کر کے آئیں گے۔ میری باس سرجن شہناز سعید نے یہ سبق بہت عرصہ قبل مجھے پڑھایا تھا۔

ایک روز اپنے فرائض منصبی کے حوالے سے میں نے ان کے بے تحاشہ کان کھائے تو وہ کہنے لگیں “تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ تمہیں علم ہی نہیں کہ کیا کیا جائے؟ میں نے انہیں بتایا کہ میں واقعی نہیں جانتا‘ انہوں نے جواب دیا میں بھی نہیں جانتی کہ تمہیں کیا کرنا چاہیے؟ اس طرح ہم دو ایسے انسان ہیں جنہیں یہ علم نہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور صورت حال یہ ہے کہ ہم دونوں سرِدست ایک ہی کام میں یہ طولیٰ رکھے ہوئے ہیں وہ ہے لاعلمی میں اوج کمال، اب مشکل یہ ہے کہ ہسپتال کے حکام ایک کام کے لئے ہم میں سے صرف ایک ہی کو برداشت کر سکتے ہیں۔

اس طرح وہ مجھے احساس دلانا چاہتی تھیں کہ آئندہ میں ان کے پاس جو بھی مسئلہ لے کر آئوں‘ اس کے ساتھ ہی اس مسئلے کے حوالے سے “اگلے قدم” کے لئے چند پر مغز تجاویز بھی لائوں۔ اس طرح قبل از وقت غور و فکر کرنے سے فائدہ یہ ہوگا کہ ہم سرِ راہ ہال میں سوچ و بچار کرنے سے بچ جائیں گے۔

قانون 1 کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہر صورت حال میں میرے ماتحتوں کو حرکت پر مجبور کرتا ہے‘ اگر کوئی بھی شخص “اگلا قدم” نہ اٹھائے تو اکثر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکتی اور یہ چیز کئی موقعوں پر جمود پیدا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی مسئلہ یا کوئی موقع پہلی مرتبہ پیدا ہوتا ہے تو اکثر بہترین حل ایک دم سامنے نہیں آتا اور نہ ہی اس کے ممکنہ خطرات ایک دم سے عیاں ہوتے ہیں‘ ایسی صورت میں (خاص طور پر اگر کافی کچھ دائو پر لگا ہوتو) باس کو تر غیب ملتی ہے کہ وہ اپنے ذہنی تحفظ کیلئے خود ہی بندر کو اچک لےیعنی پنگا لے لےاور بولے
مجھے ذرا اس مسئلے پر غور کر لینے دو پھر میں تم سے بات کروں گا۔

جب تک باس اس پر اگلا قدم نہ اٹھالے اس سے سٹاف ممبرز اور سارے کا سارا منصوبہ جامد ہو کر رہ جاتا ہے لیکن دوسری طرف اگر اگلے اقدام واضح طور پر طے کر لئے جائیں تو اکثر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ماتحت ان میں سے بیشتر اقدام کی اچھی طرح پیروی کر سکتا ہے‘ مثال کے طور پر مسئلے کو گوگل کرنا اور کچھ ممکنہ اقدامات کو جاننا یا تجربہ کار لوگوں سے مشاورت کرنا اور نئی معلومات کی روشنی میں سفارشات مرتب کرنا۔ اس طرح باس کے عملی قدم اٹھانے تک صورت حال جوں کی توں نہیں رہتی۔

پہلے قانون کا تیسرا اور غالباً سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگلے قدم کو طے کر لینے سے پنگے کے حقیقی مالک میں ذوق و شوق بہت زوروں پر ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو بندر کو زیر بحث لانے سے اگلے اقدام واضح ہو جاتے ہیں اور جتنا کوئی یہ واضح طور پر سمجھ لے کہ اسے کیا کرنا ہے، اگلے اقدام اٹھانے کے لئے اتنی ہی توانائی اس میں اُمڈ آتی ہے۔ ذرا سوچئے تو سہی جب کسی کام کے طریقہ کار کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے تو آپ اس وقت اگلا قدم اٹھاتے ہوئے کتنا ہچکچاتے ہیں؟

دوم‘ اگلے قدم طے کرنے سے انسان میں بے پناہ جوش پیدا ہوجاتا ہے جو منصوبے پر ابتدائی کام کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے‘ اکثر سب سے مشکل کام یہی ہوتا ہے‘ پہلا قدم اٹھا لینے کے بعد کام نسبتاً آسان لگتا ہے۔

سوم‘ اگلے اقدام طے کرنے سے منصوبہ چھوٹے چھوٹے مرحلوں میں تقسیم ہوجاتا ہے‘ ان چھوٹے مرحلوں کوطے کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے (جیسے ایک مکمل منصوبے کا فکر کرتے رہنے کی نسبت محض ایک فون کرنا)۔

چہارم‘ اگلے اقدام طے کرنے سے انسان میں یہ رجحان پیدا ہوجاتا ہے کہ حسبِ ضرورت کبھی پورے منصوبے اور کبھی اگلے قدم پر توجہ مبذول کرے‘ اگر گول یعنی پورے منصوبے کو مکمل کرنا اعصابی دبائو پیدا کرتا ہے تو اگلا قدم یعنی محض ایک ٹیلی فون اتنے اعصابی دبائو کا حامل نہیں ہوگا‘ تاہم اگر آئندہ تمام اقدام کے بارے میںغور کرناحوصلہ شکن ہو تو منزل کے حصول کا تصور طمانیت دیتا ہے۔